اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)لاہور میں تین روزہ بسنت کا تہوار ایک بار پھر اپنے روایتی جوش و خروش، رنگینی اور پتنگوں کی بہار کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ بچے، نوجوان، بزرگ، ہر عمر کے لوگ اس خوشی میں شریک ہوئے اور شہر کی چھتوں پر جا کر پتنگیں اڑائیں، پیچے لڑائے، بوکاٹا کے نعرے لگائے اور ایک دوسرے کو دعوتیں دیں۔
بسنت کے دوران سڑکوں، پارکوں اور عوامی مقامات پر رنگوں اور موسیقی کا سماں رہا، جس سے شہر کے ہر کونے میں جشن کی خوشبو محسوس کی گئی۔ تہوار کے آخری روز امن اور خوشحالی کی علامت کے طور پر شمعیں فضاؤں میں روشن کی گئیں، جس نے نہ صرف لوگوں کے جذبات کو مزید پروان چڑھایا بلکہ تہوار کے روحانی اور ثقافتی پہلو کو بھی اجاگر کیا۔
بسنت کے جشن میں حصہ لینے والے شہریوں نے شہر کی ثقافت اور روایات کی بھرپور عکاسی کی، اور یہ موقع معاشرتی میل جول اور لوگوں کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے کا بھی سبب بنا۔ رنگ برنگی پتنگیں، چھتوں پر موجود نوجوانوں کا جوش، اور چھوٹے بچوں کی خوشی اس تہوار کی نمایاں جھلکیاں تھیں۔ علاوہ ازیں، تہوار کے دوران شہریوں کی جانب سے صفائی، تحفظ اور نظم و ضبط کے لیے کیے گئے اقدامات بھی قابلِ تعریف رہے، جس نے ایک محفوظ اور خوشگوار ماحول پیدا کیا۔
بسنت کے اختتام کے بعد دیگر شہروں سے لاہور آنے والے زائرین اور جشن کے شرکاء کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس کے باعث ریلوے اسٹیشنوں اور بس اڈوں پر رش بڑھ گیا۔ صوبے میں اس کامیاب فیسٹیول کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب نے دیگر شہروں میں بھی بسنت منانے کی اجازت دینے کا عندیہ دیا، تاکہ لوگ اپنے اپنے شہروں میں بھی تہوار کی خوشیاں منا سکیں۔ صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ آئندہ برس بسنت کی خوشیاں پھر عوام میں مسرت، اتحاد اور ثقافتی جوش و خروش لے کر آئیں گی، اور لوگ اسے امن اور محبت کے پیغام کے ساتھ منائیں گے۔