اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)اوٹاوا کے نواحی حلقے کارلٹن سے تعلق رکھنے والے لبرل رکنِ پارلیمنٹ بروس فینجوئے، جنہوں نے گزشتہ انتخابات میں کنزرویٹو پارٹی کے رہنما پیئر پولی ایو کو شکست دی تھی، نے وفاقی حکومت کی نئی ریٹرن ٹو آفس (دفتر واپسی) پالیسی پر سخت تنقید کی ہے۔
انہوں نے اس پالیسی کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں نہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہونے کے شواہد موجود نہیں بلکہ آلودگی میں بھی اضافہ ہوگا۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں بروس فینجوئے کا کہنا تھا کہ نئی پالیسی حکومت کے لیے اپنے آپریٹنگ اخراجات کم کرنے، عوام کے لیے مہنگائی میں کمی لانے اور ماحولیاتی تحفظ جیسے اہداف حاصل کرنا مزید مشکل بنا دے گی۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے شہری علاقوں میں ٹریفک کا دباؤ بڑھے گا، ایندھن کے استعمال میں اضافہ ہوگا اور کاربن اخراج میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جولائی سے سرکاری ملازمین کو ہفتے میں کم از کم چار دن دفتر میں حاضری دینا ہوگی، جبکہ اعلیٰ افسران (ایگزیکٹوز) کے لیے مئی سے مکمل وقت دفتر میں کام کرنا لازم ہوگا۔ یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا ہے جب پہلے ہی ریموٹ اور ہائبرڈ ورک پالیسیوں پر حکومت اور یونینز کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔
بروس فینجوئے، جو مشرقی اونٹاریو کے ایک ایسے حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں 10 ہزار سے زائد وفاقی ملازمین رہائش پذیر ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی سرکاری ملازمین کے لیے کام اور ذاتی ذمہ داریوں میں توازن قائم کرنا مزید مشکل بنا دے گی۔ انہوں نے ایک لچکدار ہائبرڈ ماڈل کی حمایت کی، جس میں دفتر اور ریموٹ ورک دونوں کا امتزاج ہو۔
فینجوئے کے مطابق صحیح توازن لچک میں ہے اور یہ حالات پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر ہائبرڈ ماڈل درست طریقے سے نافذ کیا جائے تو اس سے حکومت کے اخراجات کم ہوتے ہیں اور ملازمین کے ساتھ ساتھ تمام کینیڈینز کو فائدہ پہنچتا ہے۔”
دوسری جانب ٹریژری بورڈ کی جانب سے گزشتہ ہفتے ڈپٹی ڈیپارٹمنٹ ہیڈز کو بھیجے گئے ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ دفتر میں کام کرنا مضبوط ٹیمیں بنانے، باہمی تعاون بڑھانے اور ادارہ جاتی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے۔
وفاقی ملازمین کی نمائندہ تنظیم کینیڈین ایسوسی ایشن آف پروفیشنل ایمپلائز نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے کہ وہ پیر کے روز بروس فینجوئے سے ملاقات کرے گی اور نئی پالیسی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی پر بات چیت کرے گی۔
کینیڈا کی سب سے بڑی وفاقی پبلک سیکٹر یونین، پبلک سروس الائنس آف کینیڈا (PSAC)، اس پالیسی کے خلاف کئی غیر منصفانہ لیبر پریکٹس شکایات درج کرا چکی ہے، جبکہ ایک اور یونین نے ممکنہ ہڑتال کی وارننگ بھی دی ہے۔ یونین کی قومی صدر شیرون ڈی سوسا کا کہنا ہے کہ حکومت اجتماعی مذاکرات کے دوران ملازمین کی ورکنگ کنڈیشنز تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو قانون کے خلاف ہے۔
اسی طرح پروفیشنل انسٹی ٹیوٹ آف دی پبلک سروس آف کینیڈا کے صدر شان او ریلی نے کہا ہے کہ یونین حکومت کے فیصلے کے خلاف تمام ممکنہ آپشنز پر غور کر رہی ہے، اور اگر بات نہ بنی تو مستقبل میں ہڑتال کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
یہ نئی ہدایات اُن وفاقی محکموں اور اداروں پر لاگو ہوں گی جو ٹریژری بورڈ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، تاہم کینیڈا ریونیو ایجنسی اور نیشنل ریسرچ کونسل جیسے کچھ خودمختار اداروں نے بھی اسی طرزِ عمل پر عمل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
واضح رہے کہ کووِڈ-19 کے بعد سے ریموٹ ورک پالیسی وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے ایک متنازع مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ 2023 میں پابندیوں کے خاتمے کے بعد حکومت نے ملازمین کو ہفتے میں دو سے تین دن دفتر آنے کا پابند بنایا، جبکہ ستمبر 2024 سے کم از کم تین دن دفتر میں حاضری لازم ہے۔ نئی پالیسی اسی نظام کو مزید سخت کرتی ہے۔
وزیرِ اعظم مارک کارنی نے گزشتہ سال کے آخر میں کہا تھا کہ دفتر واپسی کا منصوبہ جلد “زیادہ واضح شکل” اختیار کرے گا۔ اُس وقت بھی بروس فینجوئے نے امید ظاہر کی تھی کہ حکومت لچکدار رویہ اختیار کرے گی۔ ان کے مطابق،شہروں میں ہمارے کئی پیچیدہ مسائل اس لیے پیدا ہوتے ہیں کہ ہم سب کو ایک محدود جگہ میں اکٹھا ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔ اگر سرکاری ملازمین کچھ حد تک مختلف علاقوں میں پھیلے رہیں تو یہ مقامی معیشتوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے