اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے شہر ونزر (اونٹاریو) اور امریکی شہر ڈیٹرائٹ کو ملانے والے نئے گورڈی ہو انٹرنیشنل برج کے افتتاح کو روکنے کی دھمکی دے دی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ پل کھولنے سے پہلے امریکا کو اس منصوبے کا معاوضہ دیا جانا چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے پیر کے روز سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ امریکا اس پل کے حوالے سے “فوری طور پر” مذاکرات شروع کرے گا، جو تاخیر کے بعد رواں سال کے آغاز میں کھلنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو اس اثاثے میں “کم از کم پچاس فیصد ملکیت” ملنی چاہیے۔
اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ کینیڈا نے دہائیوں سے امریکا کے ساتھ “غیر منصفانہ سلوک” کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پل کے کینیڈین اور امریکی دونوں اطراف کی ملکیت کینیڈا کے پاس ہے اور یہ پل “تقریباً بغیر کسی امریکی مواد” کے تعمیر کیا گیا ہے۔
تاہم حکومتِ کینیڈا کی ویب سائٹ کے مطابق اس منصوبے کی مکمل مالی معاونت کینیڈا کر رہا ہے اور پل عوامی ملکیت ہوگا، جس میں کینیڈا اور امریکی ریاست مشی گن شامل ہوں گے۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 6.4 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جو ابتدائی اندازے 5.7 ارب ڈالر سے کہیں زیادہ ہے۔
کینیڈین چیمبر آف کامرس کی صدر اور سی ای او کینڈس لینگ نے ایک بیان میں کہا کہ “پلوں کو روکنا یا بند کرنا خود نقصان دہ اقدام ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے 2017 میں خود اس پل کو ترجیحی منصوبہ قرار دیا تھا۔ لینگ کے مطابق جدید سرحدی انفراسٹرکچر دونوں ممالک کی مشترکہ معاشی سلامتی کو مضبوط بناتا ہے۔
مشی گن کی گورنر گریچن وِٹمر کی پریس سیکریٹری اسٹیسی لا روش نے کہا کہ گورڈی ہو انٹرنیشنل برج مکمل طور پر روزگار سے متعلق منصوبہ ہے۔ ان کے مطابق یہ پل مشی گن کے محنت کشوں اور آٹو انڈسٹری کے لیے فائدہ مند ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس پل کی تعمیر کینیڈا کی مالی معاونت سے ہوئی اور دونوں ممالک کے یونین مزدوروں نے اسے تعمیر کیا، جو دو طرفہ اور بین الاقوامی تعاون کی ایک بڑی مثال ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ٹرمپ نے ایک بار پھر کینیڈا کی ہوا بازی صنعت پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے دی
امریکی سینیٹر الیسا سلاٹکن نے خبردار کیا کہ اگر یہ منصوبہ منسوخ کیا گیا تو اس کے “سنگین نتائج” برآمد ہوں گے، جن میں کاروباری اخراجات میں اضافہ، سپلائی چین کا عدم تحفظ اور روزگار کے مواقع میں کمی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دھمکی کے ذریعے صدر مشی گن کے عوام کو اُس تجارتی جنگ کی سزا دے رہے ہیں جو خود انہوں نے شروع کی۔
یہ منصوبہ پہلی بار 2012 میں سابق کینیڈین وزیرِ اعظم اسٹیفن ہارپر نے اعلان کیا تھا، بعد ازاں پل کا نام ڈیٹرائٹ ریڈ وِنگز کے مشہور ہاکی کھلاڑی گورڈی ہو کے نام پر رکھا گیا۔ پل کی تعمیر 2018 میں شروع ہوئی۔
حکومتِ کینیڈا کے مطابق یہ پل کینیڈا اور امریکا کے مصروف ترین تجارتی سرحدی راستوں میں ایک اضافی گزرگاہ فراہم کرے گا، جس سے تجارت میں اضافہ، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور دونوں ممالک کے درمیان دنیا کے سب سے بڑے دو طرفہ تجارتی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ پل کے کھلنے کے بعد اس کی دیکھ بھال اور آپریشن کے لیے مستقل ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔
ونزر کے میئر ڈریو ڈِلکنز نے بھی سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ ونزر کینیڈا اور امریکا کے درمیان ایک اہم عالمی دروازہ ہے اور نیا پل دونوں ممالک کے درمیان “ٹو نیشن ڈیسٹینیشن” کے تصور کو مزید مضبوط کرے گا۔