اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گورڈی ہو انٹرنیشنل برج کے افتتاح میں رکاوٹ ڈالنے کی دھمکی براہِ راست رابطے اور سفارتی بات چیت کے ذریعے حل ہو جائے گی۔
اوٹاوا میں ہفتہ وار کابینہ اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے بتایا کہ منگل کو صدر ٹرمپ سے ہونے والی فون کال میں انہوں نے پل کی تعمیر، مالی ذمہ داری اور ملکیت سے متعلق حقائق واضح طور پر بیان کیے۔
مارک کارنی کے مطابق، اس بین الاقوامی پل کی تعمیر پر آنے والی تقریباً چار ارب ڈالر کی لاگت مکمل طور پر کینیڈا نے برداشت کی ہے، جیسا کہ 2012 میں طے پانے والے دو طرفہ معاہدے میں درج ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کو یہ بھی بتایا کہ پل کی ملکیت کینیڈا کی وفاقی حکومت اور امریکی ریاست مشی گن کے درمیان مشترکہ ہے، اور یہ منصوبہ کسی ایک فریق کے فائدے کے لیے نہیں بنایا گیا۔
وزیرِاعظم نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پل کی تعمیر میں امریکی شمولیت نہ ہونے کے برابر تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں کینیڈین اور امریکی اسٹیل، انجینئرز اور مزدوروں نے یکساں کردار ادا کیا، جو دونوں ممالک کے صنعتی اور افرادی تعاون کی واضح مثال ہے۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب صدر ٹرمپ نے پیر کی رات ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ جب تک امریکہ کو مناسب معاوضہ نہیں دیا جاتا، وہ پل کے افتتاح کی اجازت نہیں دیں گے۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ یہ پل تقریباً مکمل طور پر کینیڈین وسائل سے تعمیر ہوا اور امریکہ کو اس سے “کچھ بھی حاصل نہیں ہو رہا”۔ اسی پوسٹ میں انہوں نے اونٹاریو میں امریکی شراب کی فروخت پر پابندی، کینیڈا کے ڈیری نظام اور چین کے ساتھ محدود تجارتی معاہدوں پر بھی تنقید دہرائی۔
یہ بھی پڑھیں :گورڈی ہو انٹرنیشنل برج کا افتتاح نہیں ہونے دیں گے، ٹرمپ کی کینیڈا کو دھمکی
مارک کارنی نے بتایا کہ صدر ٹرمپ سے گفتگو میں پل کے علاوہ دیگر اہم معاملات بھی زیرِبحث آئے، جنہیں کینیڈا۔امریکہ۔میکسیکو تجارتی معاہدے (CUSMA) کے آئندہ لازمی جائزے کے تناظر میں آگے بڑھایا جائے گا۔ یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ تجارتی مذاکرات اکتوبر سے تعطل کا شکار ہیں۔
یہ پل، جو ونزر (اونٹاریو) اور ڈیٹرائٹ (مشی گن) کو ملاتا ہے، کئی دہائیوں کی سیاسی کوششوں اور دونوں جماعتوں کی حمایت کے بعد تعمیر ہوا۔ سابق مشی گن گورنر رک اسنائیڈر سمیت کئی امریکی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پل کے افتتاح میں مزید تاخیر ہوئی تو سب سے زیادہ نقصان امریکی شہریوں اور صنعت کو ہو گا۔
دونوں ممالک کے کاروباری اور علاقائی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ پل صرف ایک انفراسٹرکچر منصوبہ نہیں بلکہ کینیڈا اور امریکہ کے دیرینہ معاشی شراکت اور باہمی انحصار کی علامت ہے، جو آنے والے کئی عشروں تک دونوں معیشتوں کو جوڑے رکھے گا۔