اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)بجلی کے ٹیرف اور فکسڈ چارجز میں رد و بدل سے متعلق وفاقی حکومت کی درخواست پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت مکمل ہو گئی ہے۔
نیپرا حکام کے مطابق حتمی فیصلہ تفصیلی اعداد و شمار اور مالی اثرات کے جائزے کے بعد جاری کیا جائے گا۔ اس فیصلے کو توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے اثرات صنعتی، کمرشل اور گھریلو صارفین پر براہِ راست مرتب ہوں گے۔
پاور ڈویژن کے حکام نے سماعت کے دوران بتایا کہ اگر مجوزہ فیصلے کی منظوری دے دی گئی تو صنعتی شعبے کے لیے بجلی کا ٹیرف 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ کم ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی پہلی مرتبہ بلنگ سائیکل میں صنعت پر عائد 101 ارب روپے کی کراس سبسڈی ختم ہو جائے گی۔ حکام کے مطابق اس وقت صنعتی صارفین گھریلو صارفین کو 101 ارب روپے، کمرشل صارفین 90 ارب روپے اور جنرل سروسز کے صارفین تقریباً 35 ارب روپے کی کراس سبسڈی فراہم کر رہے ہیں، جو صنعتی ترقی میں بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔
نیپرا کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیٹ میٹرنگ صارفین اب تک مجموعی طور پر 35 ارب یونٹ بجلی پیدا کر چکے ہیں۔ اگر یہی صارفین بجلی گرڈ سے لیتے تو حکومت کو فی یونٹ تقریباً 3 روپے اضافی لاگت برداشت کرنا پڑتی۔ تاہم حکام نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ٹی ڈی ایس اور کراس سبسڈی کی مد میں اب بھی صارفین پر 614 ارب روپے سے زائد کا بوجھ موجود ہے، جبکہ ٹیرف ڈیفرنشل کی وجہ سے بڑے صارفین پر مزید 453 ارب روپے کا دباؤ ہے۔ پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جس شعبے کا جو مالی بوجھ ہے، وہ اسی پر منتقل کیا جائے۔
حکام کے مطابق فکسڈ چارجز کو 7 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ نیٹ میٹرنگ کے بڑھتے رجحان کے باعث پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد 94 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 15 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں صنعت کا پہیہ رواں رکھنے کے لیے بجلی کے نرخ کم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ اس وقت خطے میں پاکستان کا صنعتی ٹیرف سب سے زیادہ ہے۔
مجوزہ ٹیرف ری اسٹرکچرنگ کے بعد صنعتی بجلی کی قیمت ساڑھے 11 سینٹ فی یونٹ تک آنے کا امکان ہے، جبکہ تین سالہ صنعتی پیکج سے فائدہ اٹھانے کی صورت میں یہ نرخ ساڑھے 10 سینٹ تک کم ہو سکتا ہے۔
حکومت نے گھریلو صارفین کے لیے بھی ریلیف کی تجاویز پیش کی ہیں، جن میں 300 اور 700 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کے لیے فی یونٹ نرخ کم کرنا شامل ہے۔ اس کے ساتھ پہلی بار 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ دونوں پر لاگو ہوں گے۔
مجوزہ پلان کے مطابق 100 یونٹ استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین پر 200 روپے اور 200 یونٹ استعمال کرنے والوں پر 300 روپے فکسڈ چارجز تجویز کیے گئے ہیں، جبکہ نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے مختلف یونٹس پر الگ الگ فکسڈ چارجز اور فی یونٹ ٹیرف میں کمی کی تجاویز شامل ہیں۔ صنعتی شعبے کے لیے فی یونٹ 5 روپے تک کمی کی تجویز کو معیشت کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
نیپرا حکام کا کہنا ہے کہ تمام تجاویز کا تفصیلی جائزہ لے کر ایسا فیصلہ دیا جائے گا جو نظامِ بجلی کو پائیدار بنانے کے ساتھ صارفین کو بھی ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کر سکے۔