اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے
ایک بار پھر بابری مسجد کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متنازع مقام پر مسجد کی دوبارہ تعمیر کبھی ممکن نہیں اور نہ ہی مستقبل میں اس کا کوئی امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقام پر رام مندر کی تعمیر ایک حتمی حقیقت ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ نے منگل کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ بابری مسجد کی بحالی کا مطالبہ کرنے والوں کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ “جو لوگ اس خواب کو دیکھ رہے ہیں وہ ہمیشہ مایوس رہیں گے”، کیونکہ ریاستی حکومت اور عوام کی اکثریت رام مندر کی تعمیر کے فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیراعلیٰ اترپردیش نے مزید کہا کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر نہ صرف مذہبی عقیدت کا معاملہ ہے بلکہ اسے ملک کی ثقافتی اور تاریخی شناخت کا حصہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت مندر کے حوالے سے اپنے عزم پر قائم ہے اور اس معاملے پر کسی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ بابری مسجد 1992 میں انتہاپسند ہندوؤں کے ہاتھوں شہید کردی گئی تھی، جس کے بعد یہ معاملہ برسوں عدالتوں میں زیر سماعت رہا۔ بعد ازاں بھارتی سپریم کورٹ نے 2019 میں اپنے فیصلے میں متنازع زمین رام مندر کی تعمیر کے لیے دینے کا حکم دیا تھا، جبکہ مسجد کی تعمیر کے لیے متبادل زمین فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
بابری مسجد اور رام مندر کا تنازع بھارت کی جدید تاریخ کے حساس ترین مذہبی و سیاسی معاملات میں شمار ہوتا ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آتا رہتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کے بیانات ملک کی داخلی سیاست اور مذہبی ہم آہنگی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔