برٹش کولمبیا میں فائرنگ واقعہ کے بعد البرٹا کے والدین میں سکولوں کی سیکیورٹی پر تشویش

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ٹمبلر رج، برٹش کولمبیا میں پیش آنے والے ہولناک اجتماعی فائرنگ کے واقعے کے بعد البرٹا بھر میں والدین ایک نہایت سنجیدہ اور پریشان کن سوال پر غور کر رہے ہیں: اگر ایسا کوئی سانحہ ہمارے قریب پیش آ جائے تو کیا ہمارے اسکول واقعی اس کے لیے تیار ہیں؟

منگل کے روز شمال مشرقی برٹش کولمبیا میں ہونے والی اس فائرنگ میں رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (RCMP) کے مطابق نو افراد جان سے گئے، جن میں حملہ آور بھی شامل تھا۔ اس شدید واقعے نے نہ صرف پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ تعلیمی اداروں میں ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات پر بھی ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

البرٹا کے بڑے شہروں، کیلیگری اور ایڈمنٹن، کے اسکول بورڈز کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ہنگامی حالات کے لیے باقاعدہ طریقۂ کار اور منصوبے موجود ہیں۔ تاہم طلبہ اور والدین کی جانب سے موصول ہونے والے تاثرات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان منصوبوں پر عمل درآمد اور ان کے بارے میں آگاہی ہر اسکول میں یکساں نہیں۔

کیلیگری کے بعض طلبہ نے بتایا کہ انہوں نے لاک ڈاؤن یا سیکیورٹی ڈرلز میں حصہ لیا ہے، مگر یہ مشقیں باقاعدگی سے نہیں ہوتیں۔ ایک طالب علم، رائلن میکلسکی، کے مطابق انہیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ کلاس روم کے پچھلے حصے میں جا کر چھپ جائیں، دروازے بند کر کے خاموش رہیں، لیکن اس کے علاوہ زیادہ تفصیل فراہم نہیں کی جاتی۔ ایک اور طالب علم نے کہا کہ پورے تعلیمی سال میں انہیں صرف ایک فائر ڈرل یاد ہے اور حالیہ مہینوں میں کسی لاک ڈاؤن مشق کا انعقاد نہیں ہوا۔

ان خدشات کے جواب میں کیلیگری کیتھولک اسکول ڈسٹرکٹ نے وضاحت کی کہ اس کے تمام اسکولوں کے پاس ہنگامی ردعمل کے منصوبے موجود ہیں اور ہر سال کم از کم دو لاک ڈاؤن ڈرلز، فائر ڈرلز اور دیگر حفاظتی مشقیں کرائی جاتی ہیں۔ اسی طرح ایڈمنٹن کیتھولک اسکولز کا کہنا ہے کہ وہ سال میں تین لاک ڈاؤن ڈرلز منعقد کرتے ہیں۔

کیلیگری بورڈ آف ایجوکیشن (CBE) نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ ایڈمنٹن پبلک اسکولز کے مطابق لاک ڈاؤن کی صورت میں اندرونی دروازے بند رکھے جاتے ہیں جبکہ عملہ اور طلبہ خاموشی سے نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں:کینیڈا کے شہر ٹمبلر رج کے اسکول میں فائرنگ، 10 افراد ہلاک، حملہ آور بھی مارا گیا

تاہم والدین کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی جانب سے معلومات کی فراہمی ہمیشہ تسلی بخش نہیں ہوتی۔ کیلیگری کی ایک والدہ، کترینا اولسن-مطاہد، نے بتایا کہ ماضی میں لاک ڈاؤن ڈرلز کے بارے میں انہیں علم تھا، مگر حالیہ عرصے میں انہیں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ایک اور والدہ، وکٹوریہ ریڈ، نے کہا کہ ان کی بیٹی کے کنڈرگارٹن میں سال کے آغاز میں ایک لاک ڈاؤن مشق ہوئی تھی، لیکن اس کے بعد کوئی تازہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

والدین کے نزدیک صرف مشقیں کافی نہیں بلکہ مؤثر رابطہ بھی نہایت اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ وہ ہنگامی حالات میں کس طرح خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں، اور ساتھ ہی والدین کو بھی اس نظام پر اعتماد ہونا چاہیے۔

دونوں شہروں کے اسکول بورڈز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ طلبہ کے لیے ذہنی صحت کی سہولیات دستیاب ہیں، خاص طور پر ان بچوں کے لیے جو اس قسم کی خبروں کے بعد خوف یا اضطراب کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اسکول انتظامیہ والدین اور طلبہ کو ترغیب دے رہی ہے کہ اگر انہیں کسی قسم کی پریشانی محسوس ہو تو وہ استاد یا کسی قابلِ اعتماد بالغ فرد سے بات کریں، تاکہ بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں