اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم
بنیامین نیتن یاہو سے اہم ملاقات کے بعد ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو امریکا کی پہلی ترجیح قرار دیتے ہوئے،خبردار کیا ہے کہ اگر ڈیل نہ ہوئی تو اس کے نتائج مختلف اور سنگین ہوسکتے ہیں۔صدر ٹرمپ کے مطابق ملاقات میں نیتن یاہو کے متعدد اعلیٰ نمائندے بھی شریک تھے اور بات چیت نہایت مثبت ماحول میں ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی، غزہ کی صورتحال اور خطے میں بڑھتی کشیدگی سمیت اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے اور اب یہ دیکھا جا رہا ہے کہ آیا معاہدہ ممکن ہو پاتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر ڈیل نہ ہوئی تو پھر حالات کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ٹرمپ نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی ایران نے معاہدہ نہ کرنے کا انتخاب کیا تھا جس کے بعد اسے “مڈنائٹ ہیمر” بمباری کا سامنا کرنا پڑا، جو ان کے بقول ایران کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس بار تہران زیادہ ذمہ دارانہ اور معقول رویہ اختیار کرے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا سفارتی راستے کو ترجیح دیتا ہے، تاہم قومی مفادات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حتمی نتیجہ ایران کے طرزِ عمل پر منحصر ہوگا۔ملاقات کے دوران امریکا اور اسرائیل کے مضبوط تعلقات کا بھی اعادہ کیا گیا، تاہم اس موقع پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک خطے میں امن اور استحکام کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔
بعد ازاں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی سرحد تاریخ میں پہلی بار "100 فیصد محفوظ” ہے۔ انہوں نے توانائی پالیسی پر اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ونڈ انرجی کے حامی نہیں اور توانائی کے دیگر ذرائع پر توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری رہے گا، تاہم کسی بھی معاہدے یا اس کے متبادل اقدامات کا فیصلہ ایران کے آئندہ رویے کو دیکھتے ہوئے کیا جائے گا۔