اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بنگلہ دیش میں آج عام انتخابات کے لیے میدان سج گیا ہے
جہاں 12 کروڑ 77 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ اس انتخابی عمل کو ملک کے سیاسی مستقبل کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ایک اہم قومی ریفرنڈم بھی اسی روز منعقد ہو رہا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق 300 میں سے 299 پارلیمانی حلقوں میں پولنگ صبح 7:30 بجے شروع ہو کر شا م4:30 بجے تک جاری رہے گی۔ مجموعی طور پر 1981 امیدوار میدان میں ہیں جن میں 250 سے زائد آزاد امیدوار شامل ہیں۔ حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو کم از کم 151 نشستیں درکار ہوں گی۔
عوامی لیگ کی رجسٹریشن معطل ہونے کے باعث وہ براہِ راست انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی، تاہم اس کے حامی آزاد امیدواروں کے طور پر مقابلے میں موجود ہیں۔ عوامی سروے کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی کی زیر قیادت 11 جماعتی اتحاد کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔
عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے قوم سے خطاب میں یقین دہانی کرائی کہ انتخابات کے فوراً بعد اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کر دیا جائے گا اور عبوری حکومت کے اقتدار برقرار رکھنے سے متعلق افواہیں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پہلی بار سی سی ٹی وی کیمروں، باڈی کیمروں اور ڈرونز کا استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ متعلقہ اداروں کو خصوصی اختیارات بھی دے دیے گئے ہیں۔
سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کے تحت ملک بھر میں 10 لاکھ سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور فوج کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے۔ تقریباً 24 ہزار پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دے کر نگرانی کا خصوصی نظام قائم کیا گیا ہے، جبکہ تین روز کے لیے موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق 5 کروڑ 60 لاکھ نوجوان ووٹرز اس الیکشن میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں، جو مجموعی ووٹرز کا 44 فیصد بنتے ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم 7 لاکھ 67 ہزار 142 شہری پہلی بار پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالیں گے۔
ووٹروں کو دو مختلف رنگوں کے بیلٹ پیپرز دیے جائیں گے؛ **سفید بیلٹ** رکنِ پارلیمنٹ کے انتخاب کے لیے جبکہ **گلابی بیلٹ** “جولائی نیشنل چارٹر” کے تحت مجوزہ آئینی اصلاحات پر ریفرنڈم کے لیے ہوگا۔ ان اصلاحات میں وزیر اعظم کی مدتِ اقتدار کی حد مقرر کرنا اور عدلیہ کو مزید بااختیار بنانا جیسے اہم نکات شامل ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ عشروں سے شیخ حسینہ واجد اور خالدہ ضیا کے گرد گھومنے والا سیاسی منظرنامہ اس بار مختلف دکھائی دے رہا ہے۔ **طارق رحمان** کی قیادت میں بی این پی معاشی بحالی اور شفافیت کے نعرے کے ساتھ مضبوط پوزیشن میں نظر آ رہی ہے، جبکہ جماعت اسلامی کی قیادت میں اتحاد بھی ایک بڑی انتخابی قوت بن چکا ہے۔ دوسری جانب **اسلامی تحریک بنگلہ دیش** 253 نشستوں پر انتخاب لڑ رہی ہے جس سے مذہبی ووٹ تقسیم ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ڈھاکا کی **58** اور چٹاگانگ کی **68 نشستوں** پر سخت مقابلے کی پیش گوئی ہے۔ادھر ووٹروں کو دھمکانے کے الزام میں بی این پی کے رہنما منظور الاحسن منشی کو الیکشن انکوائری کمیٹی نے طلب کر لیا ہے۔ ایک وائرل ویڈیو میں انہیں مخالف ووٹرز کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے دیکھا گیا، جس پر بی این پی نے پالیسی کے خلاف بیان دینے پر انہیں پارٹی سے نکال دیا ہے۔حکام کو امید ہے کہ سخت انتظامات کے باعث انتخابات پرامن طریقے سے مکمل ہوں گے اور نتائج ملک کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے۔