اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) Restaurants Canada کی جانب سے جاری ایک نئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ
کینیڈا کے ریسٹورنٹس بڑھتی لاگت اور کم ہوتے گاہکوں کے باعث منافع کمانے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ سروے کے مطابق تقریباً 44 فیصد ریسٹورنٹس یا تو خسارے میں چل رہے ہیں یا بمشکل اخراجات پورے کر پا رہے ہیں، جس سے صنعت کے مستقبل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
رپورٹ کے لیے 2025 کے آخر میں 220 رکن ریسٹورنٹس کا سروے کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ نومبر 2025 تک 26 فیصد کاروبار خسارے میں تھے جبکہ 18 فیصد صرف بریک ایون تک محدود رہے۔ اس کے مقابلے میں 2019 میں صرف 12 فیصد ریسٹورنٹس ایسی مالی صورتحال سے دوچار تھے، تاہم 2024 کے 53 فیصد کے مقابلے میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے۔
ادارے کی صدر اور سی ای او Kelly Higginson نے خبردار کیا کہ یہ صورتحال ملازمتوں، شفٹس اور کاروبار کی بقا پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے اور آنے والے دنوں میں مزید ریسٹورنٹس بند ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق خوراک، کرایہ، لیبر اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کاروباری لاگت کو غیر معمولی حد تک بڑھا رہا ہے۔
ماہرِ غذائیات اور University of Guelph سے وابستہ پروفیسر Mike von Massow کا کہنا ہے کہ خوراک کی مہنگائی ریسٹورنٹس کو دوہرا نقصان پہنچا رہی ہے۔ ایک طرف کاروباری اخراجات بڑھ رہے ہیں اور دوسری جانب صارفین مہنگی گروسری کے باعث باہر کھانا کم کر دیتے ہیں، جس سے آمدنی مزید متاثر ہوتی ہے۔
Beyond the Gate کے مالک اور شیف Frederic Chartier نے بتایا کہ کم گاہکوں کے باعث انہیں اضافی ذمہ داریاں خود اٹھانا پڑ رہی ہیں، حتیٰ کہ وہ برتن دھونے سے لے کر اکاؤنٹنگ تک کے کام انجام دے رہے ہیں۔ اخراجات پورے کرنے کے لیے انہوں نے جزوقتی ملازمت بھی اختیار کرلی ہے اور ریسٹورنٹ میں لنچ اور سنڈے برنچ سروس بند کرنا پڑی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 89 فیصد ریسٹورنٹس کو لیبر لاگت اور 88 فیصد کو خوراک کی بڑھتی قیمتوں پر تشویش ہے۔ مہنگائی کے باعث دسمبر میں گروسری کی قیمتیں سالانہ بنیاد پر 5 فیصد تک بڑھ گئیں، جس نے کاروبار کو مزید دباؤ میں ڈال دیا۔
اتنے محدود منافع کے باعث مالکان 2026 میں اوسطاً 4 فیصد تک مینیو کی قیمتیں بڑھانے پر غور کر رہے ہیں، تاہم انہیں خدشہ ہے کہ زیادہ قیمتیں گاہکوں کو مزید دور کر سکتی ہیں۔ کچھ کاروبار قیمتیں بڑھانے کے بجائے ویلیو میلز یا نسبتاً کم قیمت آپشنز متعارف کرا رہے ہیں تاکہ صارفین کو متوجہ رکھا جا سکے۔
ماضی کے سرویز کے مطابق تقریباً تین چوتھائی کینیڈین شہری اخراجات کم کرنے کے لیے باہر کھانا کھانے سے گریز کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی سطح پر ریلیف نہ ملا تو یہ بحران مقامی معیشت اور روزگار دونوں کو متاثر کر سکتا ہے، کیونکہ ریسٹورنٹس ملک بھر کی کمیونٹیز میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔