اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے رمضان المبارک 1447 ہجری کے آغاز سے متعلق چاند کی متوقع رویت پر مبنی سائنسی پیش گوئی جاری کر دی ہے۔
سپارکو کی جانب سے جاری کردہ فلکیاتی تجزیے کے مطابق نئے قمری مہینے کے تعین کے لیے چاند کی پیدائش، عمر اور رویت کے امکانات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے۔
ترجمان سپارکو کے مطابق رمضان المبارک 1447 ہجری کا نیا چاند 17 فروری 2026 کو شام 5 بج کر 1 منٹ پاکستان سٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق پیدا ہوگا۔ فلکیاتی حسابات کے مطابق اگلے روز یعنی 18 فروری 2026 کو غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 25 گھنٹے اور 48 منٹ ہو چکی ہوگی، جو رویت کے لیے ایک اہم عنصر سمجھا جاتا ہے۔
سپارکو کے ترجمان نے مزید بتایا کہ 18 فروری کی شام ساحلی علاقوں میں غروبِ آفتاب اور غروبِ ماہتاب کے درمیان وقفہ تقریباً 59 منٹ متوقع ہے۔ یہ دورانیہ چاند کی آنکھ سے رویت کے امکانات کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے، کیونکہ زیادہ وقفہ ہونے کی صورت میں چاند افق پر واضح طور پر نظر آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
فلکیاتی اعداد و شمار اور سائنسی مشاہدات کی بنیاد پر سپارکو کا کہنا ہے کہ 18 فروری 2026 کی شام پاکستان کے مختلف حصوں میں چاند کے نظر آنے کے امکانات روشن ہیں۔ انہی سائنسی اندازوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یکم رمضان المبارک 19 فروری 2026 کو ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پہلا روزہ اسی تاریخ کو متوقع ہے۔
سپارکو نے واضح کیا ہے کہ یہ پیش گوئی خالصتاً سائنسی اور فلکیاتی تجزیے پر مبنی ہے، جس کا مقصد عوام اور متعلقہ اداروں کو ممکنہ تاریخ سے آگاہ کرنا ہے۔ تاہم اسلامی مہینے کے آغاز کا حتمی اور سرکاری اعلان رویتِ ہلال کمیٹی پاکستان ہی کرے گی۔
ترجمان کے مطابق رویتِ ہلال کمیٹی ملک کے مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی مستند شہادتوں، عینی مشاہدات اور شرعی تقاضوں کی روشنی میں رمضان المبارک کے آغاز کا باضابطہ فیصلہ کرنے کی مجاز اتھارٹی ہے۔ اس لیے سپارکو کی پیش گوئی کے باوجود رمضان المبارک کے آغاز سے متعلق حتمی اعلان کمیٹی کے فیصلے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
سپارکو کی اس سائنسی پیش گوئی کو رمضان المبارک کی تیاریوں کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے اداروں اور عوام کو ممکنہ تاریخ کے حوالے سے پیشگی منصوبہ بندی میں سہولت حاصل ہوتی ہے۔