اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) جنوبی افریقہ کے صدر نے ملک میں بڑھتے ہوئے منظم جرائم، گینگ تشدد اور غیر قانونی کان کنی کی سرگرمیوں کے خلاف
سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے فوج کو پولیس کی مدد کے لیے تعینات کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر راما فوسا نے اپنے خطاب میں کہا کہ منظم جرائم اس وقت جنوبی افریقہ کی جمہوریت، سماجی ڈھانچے اور معاشی ترقی کے لیے سب سے بڑا اور فوری خطرہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ نیٹ ورکس نہ صرف شہریوں کی جان و مال کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ ملکی سرمایہ کاری اور معاشی استحکام پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
صدر نے واضح کیا کہ حکومت رواں سال جرائم کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کو اپنی اولین ترجیح بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، بہتر انٹیلی جنس شیئرنگ اور مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط حکمت عملی کے ذریعے جرائم پیشہ گروہوں کا قلع قمع کیا جائے گا۔اسی سلسلے میں انہوں نے South African National Defence Force (SANDF) کو پولیس کی معاونت کے لیے تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔ صدر نے وزیر برائے پولیس اور فوجی قیادت کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ چند روز میں ویسٹرن کیپ اور گاؤٹنگ صوبوں میں گینگ تشدد اور غیر قانونی کان کنی کی روک تھام کے لیے سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کا جامع اور عملی منصوبہ پیش کریں۔
صدر راما فوسا نے مزید اعلان کیا کہ رواں سال 5 ہزار 500 نئے پولیس اہلکار بھرتی کیے جائیں گے تاکہ ملک بھر میں سکیورٹی کا نظام مضبوط بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ اسلحہ قوانین کو مزید سخت کیا جائے گا اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف کثیرالجہتی انٹیلی جنس ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ جرائم کی قیمت شہری اپنی جانوں کے ضیاع، خاندانوں کی تباہی اور نوجوانوں کے مستقبل کے برباد ہونے کی صورت میں ادا کر رہے ہیں، جسے مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ مبصرین کے مطابق فوج کی تعیناتی حکومت کے سخت مؤقف کی عکاسی کرتی ہے اور آئندہ مہینوں میں ملک میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن دیکھنے کو مل سکتا ہے۔