اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ Danielle Smith کی جانب سے عدالتی تقرریوں میں زیادہ اختیار حاصل کرنے کی کوشش ان کے اپنے اور دیگر صوبوں کے مؤقف کو مضبوط بنانے کے بجائے نقصان پہنچا رہی ہے۔
سمتھ نے وزیر اعظم Mark Carney کو ایک خط ارسال کیا، جسے انہوں نے جنوری کے آخر میں عوام کے سامنے بھی جاری کیا۔ اس خط میں انہوں نے دھمکی دی کہ اگر صوبائی حکومت کو اعلیٰ عدالتوں کے ججوں اور Supreme Court of Canada کے ججوں کی تقرری میں زیادہ کردار نہ دیا گیا تو وہ صوبائی عدلیہ کی فنڈنگ روک سکتی ہیں۔
اس خط پر مختلف اداروں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا، جن میں Canadian Bar Association بھی شامل ہے۔ فرانسیسی وکلاء کی تنظیم اور فرانسیسی کینیڈین ایسوسی ایشن کے صوبائی چیپٹر نے بھی اس وقت تشویش کا اظہار کیا جب سمتھ نے عدالتی تقرریوں میں دو لسانی شرط ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔وفاقی وزیر انصاف Sean Fraser نے موجودہ نظام کا دفاع کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
بعد ازاں سمتھ نے 7 فروری کو Corus Radio کے پروگرام “Your Province, Your Premier” میں کہا کہ یہ مطالبہ دراصل البرٹا کے وزیر انصاف Mickey Amery کی جانب سے آیا تھا۔
حال ہی میں ایک غیر متعلقہ پریس کانفرنس کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ عدالتی فنڈنگ میں کٹوتی کی دھمکی سے Alberta کے شہریوں کی عدالتوں تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے، تو سمتھ نے جواب دیا کہ یہ وسائل کی “دوبارہ ترجیح بندی” کا معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا، “ہمارے پاس ججوں اور ماسٹرز کی تقرری کا موقع ہے، جو کنگز بینچ کے بہت سے کام انجام دے سکتے ہیں۔ ہم صرف وہی احترام چاہتے ہیں جو Quebec کو حاصل ہے۔”
سمتھ نے مزید کہا کہ کیوبیک کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت جاری ہے تاکہ یہی طریقہ کار اعلیٰ عدالتوں کی سطح پر بھی نافذ کیا جا سکے۔ ان کے مطابق کئی صوبائی وزرائے اعلیٰ اس خیال کی حمایت کرتے ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سمتھ کا یہ مؤقف اور حکمت عملی دیگر صوبوں کی عدالتی تقرریوں میں زیادہ کردار حاصل کرنے کی کوششوں کو مضبوط بنانے کے بجائے مزید تنازع اور تنقید کا باعث بن رہی ہے۔