اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز USS Abraham Lincoln ایران کے مزید قریب پہنچ گیا
جس کے بعد خطے کی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی بحری بیڑہ اب ایرانی ساحل سے محض 240 کلومیٹر کی دوری پر موجود ہے، جب کہ اس سے قبل یہ فاصلہ تقریباً 700 کلومیٹر بتایا جا رہا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے خطے میں اپنی بحری اور فضائی طاقت میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور اس وقت وہ یومیہ 800 تک فضائی حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ استعداد کسی بھی ممکنہ ایرانی ردعمل کو فوری طور پر غیر مؤثر بنانے کے لیے کافی سمجھی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی جنگی سازوسامان، لڑاکا طیاروں، میزائل دفاعی نظام اور اضافی فوجی دستوں کی تعیناتی سے خطے میں طاقت کا توازن مزید حساس ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کا مقصد نہ صرف عسکری برتری کو مضبوط بنانا ہے بلکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی صلاحیت کو یقینی بنانا بھی ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے تاحال اس تازہ پیش رفت پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں تہران امریکی عسکری نقل و حرکت کو اشتعال انگیز اقدام قرار دیتا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر کشیدگی کم نہ ہوئی تو خطے میں کسی بھی غلط فہمی یا محدود جھڑپ کے بڑے تصادم میں تبدیل ہونے کا خطرہ موجود ہے۔
عالمی برادری نے فریقین پر تحمل اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کو کسی نئی جنگ سے بچایا جا سکے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں معمولی واقعہ بھی بڑے بحران کو جنم دے سکتا ہے، اس لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ناگزیر ہے۔