اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی سابق اعلیٰ سرکاری افسر جینس شاریٹ کو امریکہ کے ساتھ ہونے والے اہم تجارتی معاہدے کے جائزے کے دوران ملک کی مرکزی تجارتی مذاکرات کار مقرر کر دیا گیا ہے۔
اس فیصلے کا اعلان وزیر اعظم مارک کارنی کے دفتر کی جانب سے کیا گیا، جسے کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات کے لیے ایک نہایت اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
جینس شاریٹ کینیڈا کی اعلیٰ ترین انتظامی عہدے پر دو مرتبہ خدمات انجام دے چکی ہیں اور انہیں حکومتی امور، بین الاقوامی تعلقات اور پالیسی سازی میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔ وہ اس سے قبل برطانیہ میں کینیڈا کی نمائندہ بھی رہ چکی ہیں اور مختلف وزرائے اعظم کے ساتھ قریبی سطح پر کام کر چکی ہیں۔ حالیہ برسوں میں وہ وزیر اعظم مارک کارنی کی اقتدار سنبھالنے کی عبوری مدت کے دوران بھی اہم مشاورتی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
یہ تقرری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کا باقاعدہ جائزہ جلد شروع ہونے والا ہے۔ اس جائزے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، صنعتوں کے تحفظ اور روزگار سے متعلق اہم فیصلے متوقع ہیں۔ کینیڈا کی حکومت چاہتی ہے کہ معاہدے کو مزید طویل مدت کے لیے برقرار رکھا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے ملکی صنعت اور مزدوروں کو تحفظ حاصل ہو۔
وزیر اعظم مارک کارنی نے اپنے بیان میں کہا کہ جینس شاریٹ کی تقرری کینیڈا کے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تجربہ اور قیادت دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو مستحکم بنانے اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں مدد دے گی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ عرصے میں کینیڈا کی بعض اہم صنعتوں پر اضافی محصولات عائد کیے گئے تھے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ ان اقدامات سے خاص طور پر فولاد، لکڑی اور گاڑی سازی کے شعبوں کو متاثر ہونا پڑا اور ہزاروں افراد کے روزگار پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔
کینیڈا کی حزب اختلاف نے اس تقرری پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو فوری نتائج فراہم کرنے چاہئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو مزید تقرریوں کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ملکی معیشت کو نقصان سے بچایا جا سکے۔
جینس شاریٹ اس سے قبل 2023 میں سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہو گئی تھیں، تاہم انہیں دوبارہ ایک اہم قومی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی تقرری اس بات کا اشارہ ہے کہ کینیڈا کی حکومت امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو سنجیدگی سے بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ماضی میں بھی وہ اہم قومی فیصلوں میں شامل رہی ہیں، خاص طور پر 2022 میں جب دارالحکومت اوٹاوا میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا تھا، اس وقت انہوں نے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کو ہنگامی اقدامات اختیار کرنے کی سفارش کی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینے کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی تعلقات کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہوں گے، اور جینس شاریٹ کا کردار اس سلسلے میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔