اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے کیوبیک کےپریمیئر فرانسوا لیگالٹ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت آٹو انشورنس ادارے کے اعلیٰ حکام کے خلاف ممکنہ قانونی کارروائی کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے، کیونکہ ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ادارے نے منصوبے کے بڑھتے اخراجات کے بارے میں حکومت کو جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے اپنی ٹیم اور سرکاری افسران کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان قانونی راستوں کا جائزہ لیں جن کے تحت سوسائٹی دے لاسورنس آٹوموبائل دو کیوبیک کے ان افسران کے خلاف کارروائی کی جا سکے جنہوں نے حکومت کو گمراہ کیا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایس اے اے کیو کے ڈیجیٹل نظام “ایس اے اے کیو کلک” سے متعلق گیلانٹ کمیشن کی رپورٹ جاری کی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ادارے نے منصوبے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو چھپانے کے لیے حکام کو گمراہ کن اور جھوٹی تسلی دینے والی معلومات فراہم کیں۔
رپورٹ کے مطابق کئی برسوں تک ادارے کی انتظامیہ نے منصوبے کی اصل لاگت کے بارے میں مکمل حقیقت ظاہر نہیں کی اور اخراجات میں اضافے کی مکمل تفصیلات حکومت کو نہیں بتائیں۔ وزیر اعلیٰ لیگالٹ نے اس عمل کو انتہائی سنگین قرار دیا اور کہا کہ حکومت کو اس منصوبے کی اصل لاگت کے بارے میں مکمل معلومات فروری 2025 تک فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو پہلے بتایا گیا تھا کہ منصوبے کی لاگت 660 ملین ڈالر سے بڑھ کر 682 ملین ڈالر ہو گئی ہے، جو صرف تین فیصد اضافہ تھا۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ منصوبے کی مجموعی لاگت بڑھ کر تقریباً 1.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، جس کے بارے میں حکومت کو پہلے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
پریمیئرنے کہا کہ اگرچہ حکومت مزید احتیاط اور سوالات کر سکتی تھی، لیکن رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ انہیں منصوبے کی اصل اور مکمل لاگت کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو فراہم کی گئی معلومات نامکمل تھیں اور اخراجات کی اصل صورتحال چھپائی گئی۔
لیگالٹ نے سابق وزیر اعلیٰ فلپ کویار کی حکومت پر بھی تنقید کی، جس کے دور میں 2017 میں اس ڈیجیٹل منصوبے کے لیے سافٹ ویئر کا انتخاب کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کیے گئے معاہدے میں اخراجات کی تقسیم کی شرائط حکومت کے حق میں نہیں تھیں، جس کے باعث بیرونی کمپنیوں کے اخراجات بڑھنے کی صورت میں حکومت کو اضافی رقم ادا کرنا پڑی۔
دریں اثنا، حکمران جماعت کی رہنما امیدوار کرسٹین فریشیٹ نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ وزیر اعلیٰ بنیں تو وہ ٹیکس دہندگان کے مفادات کے خلاف کام کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کی تحقیقات جاری رہیں گی اور اگر کسی جرم کا ثبوت ملا تو ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
یہ معاملہ کیوبیک میں سرکاری منصوبوں کی نگرانی، شفافیت اور مالیاتی نظم و ضبط کے حوالے سے ایک اہم مثال بن گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد حکومت سرکاری منصوبوں کی نگرانی کے نظام کو مزید سخت بنانے پر غور کر سکتی ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے مالیاتی مسائل سے بچا جا سکے۔