اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) پاک بھارت کشیدگی اور خطے میں بڑھتی ہوئی سیاسی بے یقینی کے تناظر میں
آئی سی سی نے بھارت میں شیڈول اہم عالمی کرکٹ ایونٹس کی میزبانی کے حوالے سے نظرثانی شروع کر دی ہے۔ آسٹریلوی میڈیا رپورٹس کے مطابق 2029 کی آئی سی سی چمپئنز ٹرافی اور 2031 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے متبادل میزبان ملک پر غور کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ خطے میں جاری سیاسی کشیدگی، خصوصاً پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ، آئی سی سی کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق عالمی کرکٹ باڈی مستقبل کے ایونٹس کے دوران کسی ممکنہ تنازع، ٹیموں کے انکار یا سکیورٹی مسائل سے بچنے کے لیے پیشگی حکمت عملی مرتب کر رہی ہے۔
آسٹریلوی میڈیا کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کو متبادل میزبان کے طور پر سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ آسٹریلیا ماضی میں کامیابی سے بڑے عالمی ایونٹس کی میزبانی کر چکا ہے اور وہاں کے اسٹیڈیمز، سکیورٹی انتظامات اور انتظامی ڈھانچے کو عالمی معیار کا تصور کیا جاتا ہے۔ اگر آئی سی سی حتمی فیصلہ کرتی ہے تو آسٹریلیا 2029 اور 2031 کے ایونٹس کے انعقاد کے لیے مضبوط امیدوار بن سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض ٹیموں کی شرکت سیاسی عوامل سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ بنگلا دیش سمیت چند ممالک کے حوالے سے بھی سیاسی دباؤ اور سفارتی معاملات کو ایک ممکنہ رکاوٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ آئی سی سی مبینہ طور پر ایسے تمام عوامل کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ کسی بھی بڑے ٹورنامنٹ کے دوران شیڈول متاثر نہ ہو۔
بھارت کو عالمی کرکٹ میں مالی طور پر طاقتور ملک (فنانشل پاور ہاؤس) سمجھا جاتا ہے اور اسی بنیاد پر اسے متعدد بڑے ایونٹس کی میزبانی دی گئی تھی۔ تاہم پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور ممکنہ بائیکاٹ یا سکیورٹی خدشات نے آئی سی سی کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے۔تاحال آئی سی سی کی جانب سے باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ کی سطح پر مشاورت جاری ہے اور آئندہ چند ماہ میں واضح پالیسی سامنے آسکتی ہے۔ کرکٹ شائقین کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا بھارت ان بڑے ایونٹس کی میزبانی برقرار رکھ پائے گا یا عالمی کرکٹ کا یہ میلہ کسی اور ملک منتقل ہو جائے گا۔