اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا میں افراطِ زر کی سالانہ شرح جنوری میں معمولی کمی کے بعد 2.3 فیصد پر آ گئی ہے۔
سرکاری ادارے شماریات کینیڈا کے مطابق اس کمی کی بڑی وجہ پیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ ہے، جب کہ ماہرین معاشیات کی اکثریت توقع کر رہی تھی کہ شرح دسمبر کے 2.4 فیصد کی سطح پر برقرار رہے گی۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں پیٹرول کی قیمتیں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 16.7 فیصد کم رہیں، جس نے مجموعی افراطِ زر پر نیچے کی جانب دباؤ ڈالا۔ اگر پیٹرول کی قیمتوں کو نکال دیا جائے تو جنوری میں افراطِ زر کی شرح 3 فیصد بنتی ہے۔ مرکزی بینک کے لیے حوصلہ افزا اشارہ
بینک آف کینیڈا کے پسندیدہ بنیادی افراطِ زر کے اشاریے — جن میں عارضی ٹیکس تبدیلیوں اور توانائی کی قیمتوں جیسے اتار چڑھاؤ کو نکال دیا جاتا ہے — جنوری میں کچھ کم ہوئے اور مرکزی بینک کے 2 فیصد کے ہدف کے قریب آ گئے۔بینک آف مونٹریال کے چیف ماہر معاشیات ڈگلس پورٹر کے مطابق یہ نتائج مرکزی بینک کے لیے حوصلہ افزا ہیں کیونکہ افراطِ زر وسیع بنیادوں پر ہدف کے قریب آ رہی ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ شرحِ سود میں مزید کمی کے لیے معیار سخت ہے اور مالیاتی پالیسی رسد سے متعلق جھٹکوں کا مکمل حل فراہم نہیں کر سکتی۔ان کے بقول اگر افراطِ زر میں کمی کا رجحان جاری رہا تو مرکزی بینک معیشت کی مدد کے لیے پوزیشن میں ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر معاشی نمو دباؤ کا شکار ہو۔
خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار سست
شماریات کینیڈا کے مطابق گروسری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ جنوری میں سالانہ بنیاد پر 4.8 فیصد رہا، جو دسمبر میں 5 فیصد تھا۔ اس کمی کی بڑی وجہ تازہ پھلوں — خاص طور پر بیریز، مالٹے اور خربوزوں — کی قیمتوں میں کمی ہے، جہاں پیداوار بہتر اور مستحکم رہی۔ادارہ شماریات نے یہ بھی واضح کیا کہ گزشتہ سال دسمبر سے فروری تک دی گئی عارضی جی ایس ٹی چھوٹ اب بھی افراطِ زر کے اعداد و شمار پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے ریستورانوں، شراب کی دکانوں، کھلونوں اور بچوں کے ملبوسات کی قیمتوں میں سالانہ موازنہ کرتے وقت اضافہ زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔
رہائش اور موبائل سروس کی قیمتوں میں کمی
رہائشی اخراجات میں اضافے کی رفتار بھی کم ہوئی ہے۔ جنوری 2026 میں رہائش سے متعلق قیمتوں میں سالانہ اضافہ 1.7 فیصد رہا، جو پانچ سال میں پہلی بار 2 فیصد سے کم سطح ہے۔کرایوں میں سب سے زیادہ کمیپرنس ایڈورڈ آئی لینڈ اور ساسکیچیوان میں دیکھی گئی۔ اسی طرح گھروں کے رہن پر سود کی ادائیگیوں میں تبدیلی کو ماپنے والا اشاریہ بھی جنوری میں کم ہوا۔موبائل فون سروسز کی قیمتوں میں اضافہ بھی سست ہو کر 4.9 فیصد رہ گیا، جب کہ دسمبر میں یہ شرح 14.6 فیصد تھی۔