اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایپسٹین فائلز امریکی محکمۂ انصاف اور عدالتوں کی وہ دستاویزی فائلز ہیں
جو بدنام زمانہ جنسی مجرم Jeffrey Epstein سے متعلق ہیں، جن میں اس کے جرائم، نیٹ ورک، رابطوں اور اس کے ساتھیوں یا جاننے والوں کے بارے میں لاکھوں صفحات کے ریکارڈ شامل ہیں۔ ان فائلز کو ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ (Epstein Files Transparency Act) کے تحت اشاعت کے لیے لازمی قرار دیا گیا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں دستاویزات عوام کے لیے جاری کی گئی ہیں۔
تاریخ اور پس منظر
یفری ایپسٹین ایک امریکی مالیاتی سرمایہ کار تھا جسے نابالغ لڑکیوں کے خلاف جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات 2006 میں شروع ہوئیں، لیکن 2008 میں ایک کمزور سزا یافتہ معاہدہ ہوا تھا جس میں اسے مختصر جیل سزا ملی۔
ایپسٹین کو 2019 میں مزید الزامات کا سامنا تھا، لیکن وہ جیل میں خودکشی کر گیا۔ اس کے بعد امریکی محکمۂ انصاف نے عدالت کی خواہش یا نئے قوانین کی بنیاد پر اس کے تمام دستاویزی ریکارڈ عوام کے لیے جاری کرنا شروع کیے۔
ایپسٹین فائلز میں کیا شامل ہے؟
یہ فائلز تقریباً چھ ملین صفحات 180,000 تصویریں اور 2,000 ویڈیوز پر مشتمل ہیں جن میں شامل ہیں:
عدالت سے متعلق دستاویزات، عدالتی احکامات اور ریکارڈ
ایپسٹین کے ای میلز اور خطوط
فلائٹ لاگز (اس کے نجی طیاروں کے سفر کے ریکارڈ)
فون ریکارڈز اور رابطوں کی تفصیلات
متاثرین کی بیانات اور تحقیقات کے نوٹس
مالی دستاویزات اور بینکنگ معلومات
ان میں وہ براہِ راست ثبوت بھی شامل ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ ایپسٹین نے کس طرح اپنے نیٹ ورک کے ذریعے کم عمر لڑکیوں کو استحصال کے لیے استعمال کیا۔
فائلز میں سامنے آنے والے اہم نام اور انکشافات
فائلز میں بہت سے طاقتور اور معروف افراد کے نام آئے ہیں، جن کا وجود کھل کر سامنے آیا ہے، لیکن نام آنا ضروری طور پر غلط یا جرم ثابت نہیں کرتا — البتہ یہ ان کے تعلقات یا رابطوں کی تفصیل بتاتا ہے
بین الاقوامی اور سیاسی شخصیات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے متعلق خطوط، ای میلز اور کچھ روابط سامنے آئے ہیں، ۔ سابق صدر بل کلنٹن اور دیگر سیاسی شخصیات کے نام بھی دستاویزات میں درج ہیں، جس پر تحقیقات جاری ہیں۔ کچھ مغربی رہنماؤں، سفارتکاروں اور بین الاقوامی شخصیات کے خطوط، پیغامات اور ملاقاتوں کے ثبوت بھی موجود ہیں۔
کاروباری، معاشی اور ثقافتی حلقے
بڑے کاروباری افراد جیسے انیل امبانی کے خطوط، طویل پیغامات اور رابطے ریکارڈ میں موجود ہیں ،* معروف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد، ان کی میل جول اور کوآرڈینیشن کے ثبوت، بعض اوقات ایپسٹین کے نجی جزیرے یا ملازمتی ملاقاتوں کے بارے میں بھی سامنے آئے۔
مشکوک کردار اور معاونین
فرانس میں جان لوق برونیل جیسے افراد جو ایپسٹین کے ساتھ منسلک تھے، ان پر بھی تحقیقات ہیں۔
اہم باتیں جو جاننی ضروری ہیں
ان فائلز میں نام آنا الزام یا جرم کی گرفت نہیں ہے؛ بہت سے نام محض ریکارڈ میں ظاہر ہوئے ہیں۔ امریکی عدالتوں اور تفتیشی اداروں نے ابھی تک ان روابط کی قانونی جانچ جاری رکھی ہے، اور بعض معاملات میں تحقیقات وسیع ہو رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فائلز ایپسٹین کے بین الاقوامی نیٹ ورک، طاقتور حلقوں تک اس کی رسائی، اور جنسی استحصال کے منظم طریقوں** کو واضح کرتی ہیں جس نے دنیا بھر میں تشویش اور قانونی سوالات پیدا کیے ہیں۔
6افراد کے نام انکشاف
متعدد فائلز قبل از وقت مخفی رکھے گئے ناموں میں سے چھ اہم شخصیات نامعلوم تھیں، جنہیں امریکی قانون سازوں نے عوامی طور پر بے نقاب کیا* لیسلی ویکسنر* سلطان احمد بن سلیم* سالواتور نوآرا* زُراب میکِلاڈزے* لیونک لیونوف * نیکولا کیپوٹو
اقوامِ متحدہ کے ماہرین کا جائزہ
ایک آزاد یو این پینل نے کہا ہے کہ لاکھوں صفحات پر مشتمل ایپسٹین فائلز میں ایسے سسٹمک مسائل اور منظم جرائم کا پتا چلتا ہے جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور “جرائمِ ضدِ انسانیت” کے معیار تک پہنچ سکتے ہیں، جس میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف شدت پسندانہ استحصال شامل ہے۔
پاکستان کے نام اور انکشافات — حقیقت کیا ہے؟
سابق وزیرِ اعظم عمران خان
ایپسٹین فائلز میں عمران خان کا نام متعدد ای میلز اور خطوط میں سامنے آیا ہے، جن میں ایپسٹین یا اس کے نیٹ ورک سے منسوب کچھ تبصرے شامل ہیں۔ ایک ای میل میں گولڈمین سیکس سے وابستہ شخص نے ایپسٹین کو عمران خان کی قیادت کے بارے میں ذاتی رائے بھیجی تھی، جو فائلز کا حصہ بنی۔
سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی
فائلز میں ایک 2010 کی ای میل کا حوالہ بھی ملتا ہے جس میں شاہ محمود قریشی کا نام بطور ایک بین الاقوامی شخصیت درج ہے جو ایپسٹین کے نیٹ ورک میں کسی سطح پر معروضی حوالہ کے طور پر آئی۔
دیگر پاکستان سے متعلق حوالہ جات
کچھ ای میلز میں ایپسٹین نے پاکستانی شلوار قمیض** جیسے ثقافتی موضوعات پر تبادلہ خیال کیا، جو اس کے ذاتی خطوط کا حصہ تھیں لیکن کسی غیر قانونی فعل سے منسلک نہیں ہیں۔مجموعی طور پر پاکستان سے متعلق حوالہ جات فائلز میں غیر مرکزی نوعیت کے ہیں اور ان میں کوئی واضح جرم ثابت نہیں ہوا۔