اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)وزیراعظم Mark Carney نے منگل کے روز مونٹریال میں کینیڈا کی پہلی جامع دفاعی صنعتی حکمتِ عملی کا اعلان کرتے ہوئے واضح پیغام دیا کہ ملکی دفاعی صنعت کو اب تیزی سے وسعت دینا ہوگی۔ 6.6 ارب ڈالر مالیت کے اس منصوبے کا مقصد چھوٹی اور درمیانی درجے کی کمپنیوں کو مضبوط بنا کر ایسے بڑے قومی ادارے کھڑے کرنا ہے جن پر فوج طویل مدت تک انحصار کر سکے۔
ڈرون ٹیکنالوجی تیار کرنے والی کمپنی Volatus Aerospace کے چیف ایگزیکٹو گلین لنچ نے اس اقدام کو “فیصلہ کن لمحہ” قرار دیا۔ ان کی کمپنی کینیڈا، امریکا، برطانیہ اور ناروے میں تقریباً 180 ملازمین رکھتی ہے اور کینیڈین فوج کے ساتھ بغیر پائلٹ فضائی نظام کو آپریشنز میں شامل کرنے پر بات چیت کر رہی ہے۔ کمپنی مونٹریال میں ڈرون مینوفیکچرنگ مرکز کو وسعت دے رہی ہے، جس سے آئندہ دو برسوں میں تقریباً 200 نئی ملازمتیں متوقع ہیں۔
کینیڈین ایسوسی ایشن آف ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی انڈسٹریز کی صدر کرسٹین سیانفرانی نے حکمتِ عملی کو ایک تاریخی دستاویز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ وفاقی حکومت نے دفاعی صنعت کے لیے واضح وژن اور مقامی کمپنیوں کو ترجیح دینے کی پالیسی پیش کی ہے۔
اس وقت کینیڈا کی دفاعی مینوفیکچرنگ صنعت تقریباً 600 کمپنیوں پر مشتمل ہے، جو لگ بھگ 81 ہزار افراد کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔ نئی حکمتِ عملی کے تحت ہدف رکھا گیا ہے کہ وفاقی دفاعی معاہدوں میں کینیڈین کمپنیوں کا حصہ 70 فیصد تک بڑھایا جائے، دفاعی برآمدات میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے اور آئندہ دس برسوں میں 1 لاکھ 25 ہزار نئی ملازمتیں پیدا کی جائیں۔
منصوبے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جہاں ممکن ہو فوجی سازوسامان ملک کے اندر تیار کیا جائے، خصوصاً وہ صلاحیتیں جو قومی خودمختاری اور اتحادیوں سے وابستہ ذمہ داریوں کے لیے اہم ہوں۔ اگر کچھ سامان اندرونِ ملک تیار نہ ہو سکے تو اتحادی ممالک کے ساتھ شراکت یا خریداری کی جائے گی، لیکن ایسی شرائط کے ساتھ جو کینیڈین معیشت میں دوبارہ سرمایہ کاری کو یقینی بنائیں۔
اوٹاوا میں قائم کمپنی Zighra کے بانی دیپک دت نے حکمتِ عملی کو کئی دہائیوں بعد ایک بڑا “ری سیٹ” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت، سینسرز اور الیکٹرانک وارفیئر جیسے شعبوں میں دانشورانہ املاک کے تحفظ پر زور خوش آئند ہے، تاہم اصل امتحان عملدرآمد کا ہوگا۔
دوسری جانب قدامت پسند جماعت کے رہنما Pierre Poilievre نے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے اسے بیوروکریسی سے بھرپور قرار دیا۔ ان کے مطابق دفاعی خریداری کے طویل اور پیچیدہ عمل کو ختم کر کے فوج کو براہِ راست اور تیز فیصلوں کا اختیار دینا چاہیے۔
حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ دفاعی سرمایہ کاری ایجنسی کو مزید خودمختار بنانے سمیت کئی قانونی اصلاحات بھی متعارف کرائی جائیں گی، تاہم دستاویز میں یہ اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ زیادہ مؤثر خریداری نظام کے باوجود کمپنیوں کو مختلف سرکاری اداروں کے ساتھ کام کرنا پڑے گا۔