اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا رواں ہفتے کے اختتام تک ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے
تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ عسکری، سفارتی اور سیاسی پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے جبکہ صدر ٹرمپ اس معاملے پر اعلیٰ مشیروں اور عسکری قیادت سے مسلسل مشاورت کر رہے ہیں۔
امریکی نشریاتی اداروں نے باخبر حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ خطے میں موجود امریکی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ کارروائی سے قبل اس کے علاقائی اور عالمی اثرات پر غور کیا جا رہا ہے، خصوصاً خلیجی ممالک اور اسرائیل کی سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی حکام نے مختلف عسکری آپشنز تیار کر رکھے ہیں جن میں محدود فضائی حملوں سے لے کر مخصوص عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ واشنگٹن سفارتی راستہ بند نہیں کرنا چاہتا اور آخری لمحے تک سیاسی حل کی گنجائش برقرار رکھی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران نے کسی بھی ممکنہ جارحیت کا سخت جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملکی دفاعی صلاحیت مکمل طور پر فعال ہے اور اگر ایران کی خودمختاری یا سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو بھرپور ردعمل دیا جائے گا۔ ایرانی عسکری قیادت نے حالیہ بیانات میں اپنی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ادھر ممکنہ امریکی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر اسرائیل میں سکیورٹی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے شہریوں کو بنکرز کے قریب رہنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایران کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو اس کے ردعمل میں ایران اسرائیل کو میزائل حملوں کا نشانہ بنا سکتا ہے۔
عالمی سطح پر بھی اس ممکنہ کشیدگی پر تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ خلیج میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔تاحال امریکی حکومت کی جانب سے کسی حتمی فوجی کارروائی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، تاہم حالات کی سنگینی کے باعث خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور دنیا بھر کی نظریں واشنگٹن اور تہران پر مرکوز ہیں۔