اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی کارروائیاں دراصل طالبان اور بھارت کی پراکسی جنگ کا تسلسل ہیں۔
ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو پاکستان افغانستان کی سرزمین پر فضائی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اس آپشن کے استعمال سے ہچکچاہٹ نہیں ہوگی۔
ان سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان کی جانب سے کابل اور قندھار سمیت افغان علاقوں میں کی جانے والی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہ سکتی ہیں؟ اس پر وزیر دفاع نے جواب دیا کہ یہ امکان ہمیشہ موجود رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر کابل حکومت پاکستان کو امن کی ٹھوس یقین دہانی فراہم کرے تو کشیدگی کم ہوسکتی ہے، لیکن اگر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی رہی تو اسلام آباد اپنے دفاع کے لیے اقدامات کرے گا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، داعش اور دیگر شدت پسند تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں اور پاکستان کے خلاف حملے وہاں کی سرزمین سے منظم ہوتے ہیں۔ ان کے بقول یہ کارروائیاں افغان حکام کی مرضی یا سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے ذمہ داری سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے بتایا کہ بعض دوست ممالک نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی کوششیں کیں۔ استنبول، دوحہ اور کابل میں ہونے والی ملاقاتوں میں وہ خود شریک رہے، تاہم ان سفارتی کوششوں سے کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نہ ہو سکی۔
بھارت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا خدشہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ گزشتہ برس مئی میں چار روزہ جھڑپوں کے دوران بھارت کو نقصان اٹھانا پڑا اور عالمی سطح پر اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فضائیہ نے اپنی فضائی حدود کے دفاع میں مؤثر کردار ادا کیا۔
غزہ اور فلسطین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ یہ مسئلہ پاکستانی عوام کے لیے جذباتی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتا آ رہا ہے اور ہر عالمی فورم پر ان کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے امن مشنز میں نمایاں کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس میدان میں وسیع تجربہ رکھتا ہے۔