اردوورلڈ کینیڈا( ویب نیوز)Supreme Court of Pakistan نے ایک اہم آئینی و قانونی معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کروانے کے لیے کسی شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنا قانون کے دائرے سے باہر ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے جسٹس Muneeb Akhtar نے تین صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ قومی شناختی کارڈ کسی بھی شہری کے لیے عیش و عشرت کی چیز نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔
فیصلے میں عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر عدالتی ڈگری پر عمل نہ ہونے کی صورت میں شناختی کارڈ بلاک کیا جا سکتا ہے تو کیا کل کو عدالتیں رقم کی وصولی کے لیے بجلی، گیس یا پانی کے کنکشن منقطع کرنے کا حکم بھی جاری کریں گی؟ عدالت نے اس طرزِ عمل کو قانونی اصولوں اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دیا۔
جسٹس منیب اختر نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ کسی فرد کو شناختی کارڈ سے محروم کرنا درحقیقت اس کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ شناختی کارڈ کے بغیر شہری نہ بینکنگ سہولیات حاصل کر سکتا ہے، نہ سفری معاملات طے کر سکتا ہے اور نہ ہی متعدد سرکاری و نجی خدمات تک رسائی ممکن رہتی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ضابطہ دیوانی (سی پی سی) کی دفعہ 51 میں شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں، لہٰذا اس اختیار کو عدالتی عمل درآمد کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید برآں، عدالت نے واضح کیا کہ Peshawar High Court کی جانب سے سی پی سی میں کی گئی کسی ترمیم کا اطلاق صوبہ سندھ پر نہیں ہوتا۔ اس لیے Sindh High Court کی طرف سے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم قانونی بنیاد سے محروم ہے۔
پس منظر کے طور پر بتایا گیا کہ 2016 میں ایک ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف رقم کی ادائیگی کی ڈگری جاری کی تھی۔ رقم ادا نہ کرنے پر ٹرائل کورٹ نے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیا، جسے سندھ ہائیکورٹ نے برقرار رکھا۔ تاہم، سپریم کورٹ نے اس اقدام کو کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کر دیا کہ قانون میں صریح اجازت کے بغیر کسی شہری کا شناختی کارڈ معطل یا بلاک نہیں کیا جا سکتا۔