اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)ہندوستانی سینما کے معروف مزاحیہ اداکار راج پال یادیو نے تہاڑ قید خانے سے رہائی کے بعد قید خانوں کے نظام سے متعلق ایک اہم تجویز پیش کی ہے۔ عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے خود کو حکام کے حوالے کرنے والے اداکار چند روز قیام کے بعد قانونی کارروائی مکمل ہونے پر رہا ہوئے۔
رہائی کے بعد اپنے آبائی ضلع شاہجہاں پور میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے چون سالہ اداکار نے کہا کہ اس مشکل دور میں انہیں عوام اور فنکار برادری کی جانب سے بے پناہ محبت اور حوصلہ افزائی ملی، جس پر وہ دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آزمائش کے اس مرحلے نے انہیں زندگی کو نئے انداز سے دیکھنے کا موقع دیا۔
گفتگو کے دوران انہوں نے قید خانوں کے ماحول سے متعلق ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمباکو نوشی کرنے والے قیدیوں کے لیے علیحدہ اور مخصوص مقام ہونا چاہیے، جس طرح ریل کے اڈوں اور ہوائی اڈوں پر اس مقصد کے لیے الگ جگہ مقرر کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے نظم و ضبط بہتر ہو سکتا ہے اور دیگر قیدیوں کو تکلیف سے بچایا جا سکتا ہے۔
راج پال یادیو نے مزید کہا کہ قید خانے صرف سزا دینے کی جگہ نہیں ہونے چاہییں بلکہ انہیں حقیقی معنوں میں اصلاحی مراکز بنایا جانا چاہیے، جہاں قیدیوں کی تربیت، رہنمائی اور کردار سازی پر توجہ دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر قیدیوں کو مناسب ماحول اور مثبت رہنمائی فراہم کی جائے تو وہ معاشرے میں واپس جا کر مفید شہری ثابت ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ دہلی عالیہ عدالت نے رقم کے وعدہ ناموں کی عدم ادائیگی سے متعلق متعدد مقدمات میں پہلے دی گئی رعایت واپس لیتے ہوئے اداکار کو ہدایت کی تھی کہ وہ چار فروری تک متعلقہ حکام کے سامنے خود کو پیش کریں۔ عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے انہوں نے تہاڑ قید خانہ میں خود کو پیش کیا تھا، جہاں کارروائی مکمل ہونے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔