کیا مصنوعی ذہانت عوام کے لیے خطرہ بن رہی ہے؟ کینیڈانے جواب طلب کرلیا

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )  کینیڈا کی وفاقی حکومت نے برٹش کولمبیا کے علاقے ٹمبلر رج میں ہونے والی فائرنگ

کے افسوسناک واقعے کے بعد مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز، بالخصوص اوپن اے آئی، کے حفاظتی اقدامات پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
کینیڈا کے وزیر برائے مصنوعی ذہانت  Evan Solomon  نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ ٹمبلر رج کا دل دہلا دینے والا سانحہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے ناقابلِ تصور صدمہ ہے بلکہ اس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں ان رپورٹس پر شدید تشویش ہے جن کے مطابق ملزم کی مشتبہ آن لائن سرگرمی بروقت قانون نافذ کرنے والے اداروں تک نہیں پہنچائی گئی۔
وزیر کا کہنا تھا کہ کینیڈین عوام توقع رکھتے ہیں کہ آن لائن پلیٹ فارمز، بشمول اوپن اے اائی  مضبوط حفاظتی نظام اور واضح ایمرجنسی رپورٹنگ طریقہ کار اپنائیں تاکہ عوامی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اوپن اے آئی، جو چیٹ جی پی ٹی کی مالک کمپنی ہے، نے جمعے کو تصدیق کی کہ ملزم سے منسلک ایک اکاؤنٹ کو گزشتہ جون میں اندرونی طور پر فلیگ کیا گیا تھا اور بعد میں پالیسی کی خلاف ورزی پر بند کر دیا گیا تھا۔کمپنی کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد پولیس سے رابطہ کیا گیا اور متعلقہ اکاؤنٹ ہٹا دیا گیا تھا۔ تاہم برٹش کولمبیا کے وزیرِاعلیٰ   نے کہا کہ اگر یہ درست ہے کہ کمپنی کے پاس حملے سے قبل متعلقہ معلومات موجود تھیں تو یہ بات نہایت تشویشناک ہے۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے ڈیجیٹل سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں، بشمول سوشل میڈیا اور اے آئی پلیٹ فارمز، کے پاس موجود ممکنہ شواہد کے تحفظ کے لیے قانونی احکامات جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
صوبائی حکومت کے بیان کے مطابق 11 فروری کو ایک سرکاری نمائندے کی اوپن اے آئی حکام سے ملاقات ہوئی تھی۔ یہ ملاقات پہلے سے طے شدہ تھی اور اس میں کمپنی کی جانب سے کینیڈا میں دفتر کھولنے کے امکانات پر گفتگو ہوئی تھی۔
اگلے روز اوپن اے آئی نے رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (RCMP) سے رابطے کے لیے معلومات طلب کیں، جو بعد ازاں متعلقہ حکام کے ذریعے فراہم کی گئیں۔ حکومتی بیان کے مطابق اوپن اے آئی نے اس ملاقات کے دوران حکومت کو یہ نہیں بتایا کہ اس کے پاس ٹمبلر رج فائرنگ سے متعلق کوئی ممکنہ شواہد موجود ہیں۔
ویسٹرن یونیورسٹی کی سوشیالوجی کی پروفیسر Laura Huey نے کہا کہ لوگوں کا اے آئی ایپس کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرنا اب عام ہو چکا ہے، جن میں ذہنی صحت سے متعلق مشورے، ڈیٹنگ، اور بدقسمتی سے خودکشی یا تشدد کے طریقوں سے متعلق سوالات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی رفتار قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی کی صلاحیت سے کہیں زیادہ تیز ہے، جس کے باعث معاشرہ بڑی حد تک نجی کمپنیوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔ان کے مطابق تجارتی کمپنیاں ایک مشکل توازن کا سامنا کرتی ہیں: ایک طرف صارفین کی پرائیویسی کا تحفظ اور دوسری جانب عوامی سلامتی کی ذمہ داری۔ انہوں نے اس حوالے سے واضح قومی قوانین کی ضرورت پر زور دیا۔
اد ھر آر ایم سی تصدیق کی ہے کہ وہ فائرنگ کے واقعے اور اس کے بعد آن لائن گردش کرنے والی دھمکیوں کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ان دھمکیوں کے باعث ایک مقتول طالب علم کی آخری رسومات کی تقریب منسوخ کرنا پڑی۔اسٹاف سارجنٹ کرس کلارک کے مطابق متاثرہ خاندان اور کمیونٹی کے لیے حفاظتی منصوبہ نافذ کر دیا گیا ہے جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے دھمکیوں کی نوعیت سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ اور آن لائن دھمکیوں دونوں کی تحقیقات جاری ہیں اور متعلقہ ڈیجیٹل شواہد محفوظ کیے جا رہے ہیں۔یہ واقعہ نہ صرف مصنوعی ذہانت کے محفوظ استعمال بلکہ آن لائن پلیٹ فارمز کی ذمہ داری، پرائیویسی اور عوامی سلامتی کے درمیان توازن سے متعلق ایک نئی قومی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں