اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا نے ایک بار پھر ایران کو اپنی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے
الزام عائد کیا ہے کہ تہران یورینیم افزودگی کی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے اور بیلسٹک میزائل پروگرام پر مذاکرات سے گریزاں ہے۔امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے ایک بیان میں کہا کہ اس وقت ایران باقاعدہ طور پر یورینیم کی افزودگی نہیں کر رہا، تاہم وہ اس عمل کو دوبارہ شروع کرنے یا اس کی صلاحیت بڑھانے کی کوشش میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام اور خطے میں اس کی سرگرمیاں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
مارکو روبیو نے خاص طور پر ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تہران بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو براہ راست امریکی سرزمین کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کا اس پروگرام پر مذاکرات سے انکار کرنا ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران کے مسئلے کو سفارتی ذرائع سے حل کرنا چاہتا ہے۔ ان کے بقول سفارتکاری ہمیشہ ایک ممکنہ اور ترجیحی آپشن رہے گی اور Donald Trump بھی چاہتے ہیں کہ معاملات بات چیت کے ذریعے طے پائیں۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا کے پاس دیگر متبادل راستے بھی موجود ہیں۔دوسری جانب امریکی نائب صدر J. D. Vance نے بھی ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے دی جانے والی فوجی کارروائی کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی واضح ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کو سفارتی طریقے سے حل کیا جائے، تاہم اگر امریکی مفادات یا اتحادیوں کو خطرہ لاحق ہوا تو امریکا اپنے دفاع کے لیے تمام دستیاب آپشنز استعمال کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی اور مشرق وسطیٰ میں اس کا اثر و رسوخ طویل عرصے سے واشنگٹن اور تہران کے تعلقات میں بنیادی تنازع کا سبب رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا دونوں ممالک سفارتی راستہ اختیار کرتے ہیں یا کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔