ارد و ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) روسی عدالت نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل پر وی پی این سروسز کی فراہمی سے متعلق ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق عدالت نے گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کی ذیلی اکائی پر 2 کروڑ 20 لاکھ روبل (تقریباً 2 لاکھ 88 ہزار امریکی ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سخت نگرانی اور کنٹرول جاری ہے۔عدالتی فیصلے میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ گوگل نے اپنے پلے اسٹور کے ذریعے ایسی وی پی این ایپس کی تقسیم کی اجازت دی جو روسی قوانین کے تحت ممنوع یا محدود سمجھے جانے والے غیر ملکی پلیٹ فارمز اور مواد تک رسائی فراہم کرتی ہیں۔ حکام کا کہنا تھا کہ ان وی پی این سروسز کے ذریعے صارفین حکومتی پابندیوں کو باآسانی نظرانداز کرتے ہوئے بلاک شدہ ویب سائٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک پہنچ سکتے ہیں۔
روسی حکام نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ وی پی این سروسز ملک میں نافذ “انفارمیشن سوورنٹی” (معلوماتی خودمختاری) اور انٹرنیٹ کنٹرول کے قوانین کو کمزور کرتی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے جن ویب سائٹس یا سروسز کو بلاک کیا جاتا ہے، وی پی این کے ذریعے ان تک رسائی حکومتی پالیسیوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ روس گزشتہ چند برسوں سے انٹرنیٹ پر سخت نگرانی اور کنٹرول کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ متعدد غیر ملکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، نیوز ویب سائٹس اور ڈیجیٹل سروسز کو یا تو محدود کیا جا چکا ہے یا مکمل طور پر بلاک کیا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی اور داخلی استحکام کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں، جبکہ ناقدین اسے آزادیٔ اظہار اور معلومات تک رسائی پر قدغن قرار دیتے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ گوگل کو روس میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل بھی کمپنی پر غیر قانونی مواد ہٹانے میں ناکامی، مقامی قوانین کی عدم تعمیل اور ڈیٹا سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات میں جرمانے عائد کیے جا چکے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق روس اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، اور مستقبل میں بھی ایسے اقدامات دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔