اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کے خلاف دائر اپیلوں سے متعلق اہم پیش رفت کرتے ہوئے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اپیلیں باقاعدہ نمبر لگا کر سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
عدالت نے اپیلوں پر رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کردہ اعتراضات کو دور کرنے سے متعلق متفرق درخواستیں منظور کرلیں، جس کے بعد مقدمہ باقاعدہ کارروائی کی جانب بڑھ گیا ہے۔
سماعت جسٹس خادم حسین سومرو نے کی۔ اس موقع پر درخواست گزاروں کے وکلا میں بیرسٹر سلمان صفدر اور بیرسٹر سلمان اکرم راجا عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ عمران خان کی تینوں بہنیں بھی کمرۂ عدالت میں موجود تھیں۔
دورانِ سماعت بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ اپیلوں پر ایسے اعتراضات عائد کیے گئے جو غیر ضروری اور تکنیکی نوعیت کے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ رجسٹرار آفس کی جانب سے اپیلوں پر اعتراضات لگائے گئے لیکن انہیں بروقت آگاہ نہیں کیا گیا۔ جب سزا معطلی کی درخواستیں دائر کی گئیں تو معلوم ہوا کہ اپیلیں اعتراضات کی زد میں ہیں۔ وکیل کے مطابق ایک اعتراض وکالت نامے کے پرانا ہونے سے متعلق تھا، جسے بعد میں خود ہی تسلیم کر لیا گیا۔ اسی طرح فائل میں صفحات پر فلیگ نہ ہونے اور ترتیب درست نہ ہونے جیسے نکات بھی اعتراضات میں شامل تھے۔
اس پر جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ باقی ماندہ اعتراضات بھی دور کیے جا رہے ہیں۔ جب فلیگ سے متعلق اعتراض کا ذکر کیا گیا تو عدالت نے مسکراتے ہوئے ہدایت دی کہ صفحات کو فلیگ کر دیا جائے۔ عدالت نے وکلا کو سات دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی تکنیکی اعتراضات باقی ہیں، انہیں مقررہ مدت میں دور کر لیا جائے۔
سلمان صفدر نے عدالت سے استدعا کی کہ دفاع کو پہلے ہی مختلف مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے غیر ضروری پیچیدگیوں سے گریز کیا جائے۔ عدالت نے دونوں متفرق درخواستیں منظور کرتے ہوئے واضح کیا کہ درخواست گزاروں کو خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجا جا رہا۔
اس فیصلے کے بعد توشہ خانہ ٹو کیس میں اپیلوں کی باقاعدہ سماعت کی راہ ہموار ہوگئی ہے، اور آئندہ دنوں میں اس اہم مقدمے کی مزید عدالتی کارروائی متوقع ہے۔