اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)افغانستان کی جانب سے حالیہ اشتعال انگیز اقدامات کے بعد پاکستانی افواج کی جوابی کارروائی بھرپور انداز میں جاری ہے۔
سرحدی علاقوں میں کشیدگی کے دوران اب تک ایک سو تینتیس طالبان جنگجوؤں کی ہلاکت اور دو سو سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ عسکری ذرائع کے مطابق دشمن کی ستائیس چوکیاں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں جبکہ نو اہم مقامات پر پاکستانی افواج نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
جوابی کارروائی کے دوران دشمن کی چھتیس سے زائد ٹینک تباہ کی گئیں۔ اس کے علاوہ طالبان کے توپ خانے اور بکتر بند گاڑیوں کو بھی نشانہ بنا کر ناکارہ بنا دیا گیا۔ شدید نقصانات کے باعث متعدد چوکیاں اور ٹھکانے خالی کر دیے گئے جہاں سے مخالف عناصر پسپا ہو گئے۔
پاکستانی فضائیہ نے بھی کارروائی میں حصہ لیتے ہوئے دشمن کے اہم عسکری مراکز کو نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق ایک مکمل دستہ اور اس کا مرکزی عسکری دفتر تباہ کر دیا گیا جبکہ اسلحہ خانہ بھی مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ کئی اہم مقامات پر پاکستانی پرچم لہرا دیا گیا ہے جو پاک افواج کی برتری کا واضح ثبوت ہے۔
عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ دشمن کی جانب سے بغیر پائلٹ چھوٹے طیاروں کے ذریعے حملے کی ناکام کوشش کی گئی، تاہم پاکستانی افواج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام طیارے فضا ہی میں مار گرائے۔ اس وقت چن چن کر دشمن کی باقی ماندہ چوکیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی جارحیت کا راستہ روکا جا سکے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ شدید نقصان اٹھانے کے بعد افغان طالبان نے شہری آبادی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ ضلع باجوڑ میں بھاری ہتھیاروں سے داغے گئے گولے گرنے کے نتیجے میں تین خواتین سمیت پانچ افراد زخمی ہو گئے جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔
وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق پاک افغان سرحد پر طالبان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کی گئی تھی جس کا فوری اور مؤثر جواب دیا گیا۔ حکومتی بیان میں کہا گیا کہ خیبرپختونخوا کے مختلف سرحدی مقامات پر دشمن کی کارروائیوں کے جواب میں ناوگئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر، ضلع مہمند اور ارندو کے علاقوں میں بھرپور دفاعی اقدامات کیے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملکی سلامتی پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔