لاکھوں امریکی اپنا ہی ملک چھوڑنے پر مجبور کیوں؟

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا جو طویل عرصے تک دنیا بھر کے تارکینِ وطن کے لیے سب سے بڑی منزل سمجھا جاتا رہا

اب ایک نئے اور غیر معمولی رجحان سے گزر رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق بڑی تعداد میں امریکی شہری خود اپنا ملک چھوڑ کر یورپ، ایشیا اور لاطینی امریکا منتقل ہو رہے ہیں، جس کے باعث کئی دہائیوں بعد امریکا کو منفی خالص ہجرت (Net Migration) کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا میں بڑھتی مہنگائی، رہائش کے اخراجات، صحت کی دیکھ بھال کے مہنگے نظام اور تعلیمی قرضوں کے بوجھ نے متوسط طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔ بڑے شہروں میں کرایوں اور گھروں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث عام شہری کے لیے معیاری زندگی برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
کئی امریکی خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی آمدنی کا بڑا حصہ صرف بنیادی ضروریات پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں، جس کے باعث بچت اور بہتر مستقبل کی منصوبہ بندی مشکل ہو گئی ہے۔ امریکا میں بڑھتی سیاسی تقسیم، انتخابی تنازعات اور سماجی کشیدگی بھی شہریوں کی نقل مکانی کی ایک اہم وجہ بن رہی ہے۔ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ پرامن اور متوازن سیاسی ماحول کے خواہاں ہیں، جہاں روزمرہ زندگی سیاسی تنازعات سے کم متاثر ہو۔
یورپی ممالک کی جانب سے نرم ویزا پالیسیوں، ڈیجیٹل نومیڈ ویزا پروگرامز، ٹیکس مراعات اور بہتر سماجی سہولیات نے امریکیوں کے لیے بیرونِ ملک رہائش کو زیادہ پرکشش بنا دیا ہے۔ پرتگال، اسپین، اٹلی اور یونان جیسے ممالک میں نسبتاً کم اخراجات زندگی اور صحت کی سہولیات تک آسان رسائی امریکی شہریوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہے۔
اسی طرح تھائی لینڈ، ملائیشیا اور میکسیکو جیسے ممالک میں کم لاگت زندگی اور سازگار موسمی حالات بھی ہجرت کا باعث بن رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق 2025 میں اندازاً ڈیڑھ لاکھ امریکی شہری ملک چھوڑ چکے ہیں، جو ایک نمایاں اضافہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال آخری بار عظیم کساد بازاری (Great Depression) کے دوران دیکھی گئی تھی، جب معاشی مشکلات کے باعث بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کی تھی۔
اگرچہ حکومتی مؤقف کے مطابق غیر قانونی تارکین وطن کی بے دخلی اور سخت ویزا پالیسیوں کو اس رجحان سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل تبدیلی یہ ہے کہ امریکی شہری خود بہتر معیارِ زندگی، کم اخراجات اور زیادہ سماجی تحفظ کی تلاش میں بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔
سماجی و معاشی ماہرین کے مطابق یہ رجحان وقتی بھی ہو سکتا ہے اور طویل المدتی بھی، اس کا انحصار امریکا کی معاشی پالیسیوں، مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات اور سیاسی استحکام پر ہوگا۔ اگر اندرونی حالات میں بہتری نہ آئی تو آئندہ برسوں میں امریکی شہریوں کی بیرونِ ملک منتقلی کا سلسلہ مزید تیز ہو سکتا ہے۔مجموعی طور پر امریکا، جو کبھی خوابوں کی سرزمین کہلاتا تھا، اب خود اپنے شہریوں کو بیرونِ ملک بہتر مواقع تلاش کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف معاشی بلکہ سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں