اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری ہے
جہاں عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے مؤقف کے سامنے ڈٹ گئی ہیں۔ اجلاس میں خطے میں حالیہ عسکری کارروائیوں، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ وسیع جنگ کے خطرات پر تفصیلی غور کیا جا رہا ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی سنجیدہ اور دوٹوک انداز اپنایا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا اس وقت ایک سنگین بحران کے دہانے پر کھڑی ہے اور اگر فوری طور پر کشیدگی کم نہ کی گئی تو صورتحال بے قابو ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کا چارٹر تمام رکن ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی ضمانت دیتا ہے، لہٰذا کسی بھی ریاست کے خلاف طاقت کا استعمال عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران میں کم از کم 20 شہری ان حملوں کا نشانہ بنے، جس پر انہوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ شہری آبادی کو نقصان پہنچانا ناقابلِ قبول ہے۔ گوتریس نے اس امر پر زور دیا کہ عالمی قوانین کی مکمل پاسداری یقینی بنائی جائے اور تمام فریقین فوری طور پر جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ اختیار کریں کیونکہ پائیدار امن صرف سفارت کاری اور مکالمے سے ہی ممکن ہے۔
اجلاس کے دوران اسرائیلی ذرائع سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کا بھی ذکر آیا۔ اس حوالے سے سیکریٹری جنرل نے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت آیت اللہ خامنہ ای کے بارے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا اور مصدقہ اطلاعات کا انتظار کیا جانا چاہیے۔فرانس کے مندوب نے اپنے خطاب میں ایران پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو مزید کشیدگی نہیں بلکہ فوری طور پر امن اور استحکام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کو اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے مذاکرات کی راہ ہموار کرنی چاہیے اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا چاہئیں۔
بحرین کے مندوب نے اپنی تقریر میں ایران کے اقدامات کو خطے کے لیے سنگین دھچکہ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ بحرین کی شہری آبادی پر میزائل گرے ہیں، جو ناقابلِ برداشت ہیں۔ ان کے مطابق کویت، متحدہ عرب امارات اور اردن پر بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی خودمختار ملک کی سرزمین پر حملہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔روسی مندوب نے موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی خودمختاری اور سالمیت پر براہِ راست حملہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایران میں 200 سے زائد شہری جاں بحق ہو چکے ہیں اور تعلیمی ادارے بھی حملوں سے محفوظ نہیں رہے۔ روس نے امریکا اور اسرائیل کے اقدامات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
چین کے مندوب نے بھی ایران پر حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ امریکی کارروائیوں نے خطے کو جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا اور ایران فوری طور پر مذاکرات کی میز پر آئیں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایران اور خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ متعدد عرب ممالک مکالمے اور سفارتی حل کی حمایت کر رہے تھے، ایسے میں عسکری کارروائیاں صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے مشترکہ حملوں میں ایرانی طالبات کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم جانوں کا ضیاع عالمی ضمیر کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔سلامتی کونسل کے اس ہنگامی اجلاس میں عالمی برادری کی نظریں آئندہ ممکنہ قرارداد اور سفارتی پیش رفت پر مرکوز ہیں، جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مشرقِ وسطیٰ ایک وسیع اور تباہ کن تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔