ارد و ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران کی جانب سے کویت اور قطر سمیت خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈّوں کو نشانہ بنائے جانے
کے بعد خطے میں سکیورٹی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ ممالک نے ہنگامی اور احتیاطی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق کویت میں رمضان المبارک کے دوران مساجد میں ادا کی جانے والی نمازِ تراویح کے اجتماعات کو تاحکمِ ثانی معطل کر دیا گیا ہے۔ کویتی وزارتِ اسلامی امور نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ موجودہ سکیورٹی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے، اسی لیے ملک بھر کی مساجد میں باجماعت تراویح عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔
وزارت کے مطابق صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے، عبادات کا سلسلہ سابقہ معمول کے مطابق بحال کر دیا جائے گا۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔دوسری جانب قطر نے بھی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اجتماعی افطار تقریبات اور عوامی اجتماعات عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں۔ قطری حکام کے مطابق دارالحکومت دوحہ کے مختلف علاقوں میں دن بھر متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت فوری فیصلے کیے گئے۔
قطر کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہوٹلوں، سیاحتی مراکز اور دیگر عوامی مقامات پر ہونے والے تمام تفریحی اور اجتماعی پروگرام اگلے حکم تک معطل رہیں گے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔مزید برآں قطر نے احتیاطی تدبیر کے طور پر تمام سرکاری ملازمین کے لیے عارضی طور پر ورک فرام ہوم پالیسی نافذ کر دی ہے۔ قطر کے سول سروس اینڈ گورنمنٹ ڈیولپمنٹ بیورو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کی تمام وزارتوں، سرکاری اداروں اور پبلک باڈیز کے ملازمین آئندہ نوٹس تک دفاتر آنے کے بجائے گھروں سے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔ تاہم اہم اور ہنگامی خدمات سے وابستہ شعبے معمول کے مطابق فعال رہیں گے۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ میزائل حملوں کے دوران بعض میزائل یا دفاعی نظام کی جانب سے تباہ کیے گئے میزائلوں کا ملبہ قطر کے مختلف علاقوں میں گرا، جس کے بعد سکیورٹی اداروں نے متاثرہ مقامات کو گھیرے میں لے کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی مشتبہ شے یا ملبے کے قریب نہ جائیں اور فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی اڈّوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد خلیجی ممالک میں سکیورٹی خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور خطہ ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب آئندہ سفارتی پیش رفت اور ممکنہ کشیدگی میں کمی کے اقدامات پر مرکوز ہیں، جبکہ خطے کے ممالک شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔