اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں بخوبی علم ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ایران میں کون مؤثر انداز میں احکامات جاری کر رہا ہے
تاہم انہوں نے اس شخصیت کا نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ایک امریکی ٹی وی چینل کو ٹیلیفون پر دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی موجودہ قیادت کے حوالے سے امریکا کے پاس مکمل معلومات موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ اس وقت ایران میں کون سا رہنما عملی طور پر فیصلے کر رہا ہے اور حکومتی معاملات سنبھال رہا ہے، لیکن مناسب وقت سے قبل کسی نام کا اعلان کرنا درست نہیں ہوگا۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ایران میں احکامات جاری کرنے والی موجودہ شخصیت وہی ہے جسے وہ ایران کی قیادت کرتے دیکھنا چاہتے ہیں، تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ ان کے خیال میں ایسا ہی ہے اور ایران میں کچھ “اچھے امیدوار” موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا خطے میں استحکام اور ذمہ دار قیادت کا خواہاں ہے اور وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔یاد رہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا نے حالیہ دنوں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے شہید ہونے کی تصدیق کی تھی۔ سرکاری اعلان کے مطابق ان کی شہادت پر ملک بھر میں سات روزہ تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ مختلف شہروں میں تعزیتی اجتماعات اور دعائیہ تقاریب کا انعقاد جاری ہے جبکہ سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای کی وفات کے بعد ایران کی سیاسی و مذہبی قیادت کے حوالے سے قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے آئینی ڈھانچے کے تحت نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار مجلسِ خبرگان کے پاس ہوتا ہے، جو آئینی طریقہ کار کے مطابق نئے رہنما کے تقرر کا فیصلہ کرتی ہے۔ تاہم موجودہ غیر یقینی صورتحال میں عبوری سطح پر اہم ریاستی ادارے اور اعلیٰ قیادت ملکی امور سنبھالے ہوئے ہیں۔امریکی صدر کے حالیہ بیان نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران اور امریکا کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ عالمی مبصرین کے مطابق ایران میں قیادت کی تبدیلی نہ صرف داخلی سیاست بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے ابھی تک امریکا کے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم خطے کی تیزی سے بدلتی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔