اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کے شہر کیلگری میں مقیم ایرانی نژاد باشندوں نے ایران پر ہونے والے بڑے حملوں اور ممکنہ سیاسی تبدیلی کی خبروں پر گہرے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ کچھ حلقوں میں صدمہ اور بے یقینی کی کیفیت پائی گئی، جبکہ بعض افراد نے اسے امید کی کرن قرار دیتے ہوئے خوشی کا اظہار بھی کیا۔
ایران سے جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے اقبال کیادان، جو تین دہائیوں سے زائد عرصے سے کینیڈا میں مقیم ہیں، نے بتایا کہ وہ ہفتے کی صبح اپنے وطن پر امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کی خبر سن کر بیدار ہوئے۔ ان کے مطابق چند ہفتے قبل ایران میں پُرامن احتجاج کے دوران ہزاروں افراد کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا گیا، جس کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ مایوسی کا شکار تھے اور بیرونی مدد کی امید لگائے بیٹھے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی تیاری کئی ماہ سے جاری تھی، ہفتے کے روز عمل میں آئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ایران اپنا جوہری پروگرام جاری رکھے ہوئے تھا اور دور مار میزائلوں کی تیاری میں مصروف تھا، جو امریکا کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔
اقبال کیادان کا کہنا ہے کہ ایران سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں بعض مقامات پر لوگ سڑکوں پر جشن مناتے دکھائی دیے، جس سے جلاوطن ایرانیوں میں جذباتی لہر دوڑ گئی۔ وہ خود ایران میں طالب علمی کے زمانے میں احتجاجی سرگرمیوں کے باعث گرفتار ہوئے تھے اور بعد ازاں ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چھتیس برس سے اپنے وطن واپسی کے منتظر ہیں اور اس لمحے کا تصور کرتے ہوئے ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
دوسری جانب ایران کی حکومت نے حالیہ کارروائیوں میں ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سے زائد بتائی ہے، جبکہ امریکا میں قائم ادارے ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی نے یہ تعداد سات ہزار سے زیادہ قرار دی ہے۔ ان ہلاکتوں کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔
چند ہفتے قبل کینیڈا بھر میں ایرانی نژاد شہریوں نے بڑی ریلیاں منعقد کیں۔ کیلگری میں اس اجتماع کے منتظمین میں ارمین زرنگھلام بھی شامل تھے، جن کا کہنا ہے کہ وہ کینیڈا میں حاصل آزادیوں اور حقوق کو اپنے ہم وطنوں کے لیے بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔
ادھر کینیڈا کی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث شہریوں کو ایران کا سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کی ہے اور خطے میں موجود کینیڈین باشندوں سے کہا ہے کہ وہ گلوبل افیئرز کینیڈا کے ساتھ اپنا اندراج یقینی بنائیں۔
اسی پس منظر میں اتوار کے روز کیلگری میں بلدیہ کے دفتر کے باہر ایک پُرامن احتجاجی مظاہرہ بھی منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں جنگ اور فوجی کارروائی کے خلاف آواز بلند کی جائے گی۔ یہ احتجاج وائس آف دی اپریسڈ کیلگری کی جانب سے منظم کیا جا رہا ہے، جس میں ایرانی برادری اور امن کے حامی کارکنان شرکت کریں گے۔