اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) آیت اللہ خامنہ ای کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی اور امریکی حملوں کے دوران
محفوظ مقام پر منتقل ہونے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ “پہلے پوری ایرانی قوم کو کسی دوسرے شہر منتقل کرو، پھر میں جاؤں گا۔”
یہ دعویٰ بھارت میں ان کے نمائندے ڈاکٹر عبدالماجد حکیم الٰہی کی جانب سے ایک انٹرویو میں سامنے آیا۔ ان کے مطابق سکیورٹی حکام نے متعدد بار سپریم لیڈر سے درخواست کی کہ وہ کسی محفوظ مقام یا زیرِ زمین بنکر میں منتقل ہو جائیں، کیونکہ حملوں کا خطرہ بڑھ چکا تھا۔ تاہم، آیت اللہ خامنہ ای نے ذاتی حفاظت پر قوم کو ترجیح دیتے ہوئے مبینہ طور پر کہا کہ جب تک ایرانی عوام کو محفوظ مقام پر منتقل نہیں کیا جاتا وہ خود بھی کہیں نہیں جائیں گے۔
ڈاکٹر عبدالماجد حکیم الٰہی کے بیان کے مطابق حملے کے وقت آیت اللہ خامنہ ای اپنے گھر کے دفتر میں موجود تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میزائل حملے میں ان کی اہلیہ، بہو اور پوتے بھی جاں بحق ہوئے۔واضح رہے کہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جبکہ ایران کی سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلامیہ سامنے نہیں آیا۔ مبصرین کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باعث اطلاعات اور دعوؤں کی تصدیق انتہائی اہم ہے تاکہ حقائق اور قیاس آرائی میں فرق کیا جا سکے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو یہ ایرانی قیادت کے بیانیے اور عوامی جذبات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں، تاہم موجودہ حالات میں کسی بھی خبر کی تصدیق مستند سرکاری ذرائع سے ہونا ناگزیر ہے۔