اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی اور امریکہ و اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں کی طرح پاکستان کی حصص منڈی بھی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔ کاروباری ہفتے کے پہلے ہی روز سرمایہ کاروں میں خوف اور غیر یقینی کی فضا دیکھی گئی جس کے نتیجے میں حصص کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی۔
کاروبار کے آغاز پر فروخت کا رجحان اس قدر بڑھ گیا کہ سو اشاریہ میں پندرہ ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی اور اشاریہ ایک لاکھ باون ہزار نو سو اکیانوے پوائنٹس کی سطح تک گر گیا۔ مسلسل گراوٹ اور شدید دباؤ کے باعث انتظامیہ کو خرید و فروخت کا عمل عارضی طور پر روکنا پڑا۔ یہ بندش تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہی تاکہ صورتحال کو قابو میں لایا جا سکے اور سرمایہ کاروں کو سنبھلنے کا موقع دیا جا سکے۔
ایک گھنٹے بعد کاروبار بحال ہوا تاہم مندی کا رجحان مکمل طور پر ختم نہ ہو سکا۔ بعد ازاں سو اشاریہ میں مجموعی طور پر ایک لاکھ تیرہ ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی نوٹ کی گئی، جو حالیہ عرصے کی نمایاں ترین گراوٹوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز یہی اشاریہ ایک لاکھ اڑسٹھ ہزار باسٹھ پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جس کے مقابلے میں موجودہ کمی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کے خدشات، تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے اور عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے۔ بیرونی سرمایہ کے انخلا اور مقامی سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص فروخت کرنے کے بڑھتے رجحان نے مندی کو مزید گہرا کر دیا۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات عالمی منڈیوں میں بھی نمایاں رہے۔ بھارت کی بمبئی اسٹاک ایکسچینج میں نو سو سڑسٹھ پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی، جبکہ جاپان کی حصص منڈی میں تقریباً دو فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ خلیجی ممالک کی منڈیوں میں بھی شدید مندی نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال میں بہتری نہیں آتی، مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ جلد بازی میں فیصلے کرنے کے بجائے محتاط حکمت عملی اپنائیں اور طویل المدتی مفادات کو مدنظر رکھیں۔