اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی حکومت سال میں دو مرتبہ گھڑیاں آگے پیچھے کرنے کے نظام کو ختم کرنے کے امکان کا جائزہ لے گی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہمسایہ صوبہ برٹش کولمبیا نے مستقل طور پر دن کی روشنی کا وقت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈینیئل اسمتھ نے اپنے بیان میں کہا کہ برٹش کولمبیا کے حالیہ اقدام اور مشرقی ہمسایہ صوبے سسکیچیوان کی جانب سے طویل عرصے سے مستقل معیاری وقت اپنانے کے باعث یہ سوال دوبارہ اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا البرٹا کو بھی وقت کی سالانہ تبدیلی ختم کر دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ان پیش رفتوں پر غور کرے گی اور اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ کیا اسی نوعیت کی تبدیلی البرٹا کے عوام کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مغرب اور مشرق دونوں جانب کے پڑوسی صوبے وقت کی تبدیلی کا عمل ترک کر دیتے ہیں تو مغربی خطے میں ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے البرٹا کو بھی یکساں پالیسی اپنانے پر غور کرنا ہوگا۔
دوسری جانب برٹش کولمبیا کے وزیرِاعلیٰ ڈیوڈ ایبی نے اعلان کیا ہے کہ صوبہ پورا سال دن کی روشنی کا وقت برقرار رکھے گا۔ اس اتوار کو گھڑیاں آخری بار آگے کی جائیں گی، جبکہ یکم نومبر ۲۰۲۶ کو، جب عموماً گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کی جاتی ہیں، اس بار وقت تبدیل نہیں ہوگا۔
اس فیصلے کے بعد برٹش کولمبیا کا وقت یوکون کے مطابق ہو جائے گا، جہاں پہلے ہی مستقل طور پر دن کی روشنی کا وقت رائج ہے، اور نومبر سے مارچ تک یہ البرٹا کے وقت سے بھی مطابقت رکھے گا۔ برٹش کولمبیا میں سن ۱۹۱۸ سے گھڑیاں آگے پیچھے کرنے کا نظام نافذ تھا۔
ڈیوڈ ایبی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عوامی صحت اور تحفظ کو بہتر بنانا ہے۔ ان کے مطابق موسمِ خزاں میں گھڑیوں کی تبدیلی سے لوگوں کی نیند متاثر ہوتی ہے اور سڑک حادثات کے امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے، اس لیے اس عمل کا خاتمہ مفید ثابت ہوگا۔
البرٹا میں اس معاملے پر پہلے بھی عوامی رائے شماری ہو چکی ہے۔ سن ۲۰۲۱ میں مستقل دن کی روشنی کا وقت اپنانے کی تجویز معمولی فرق سے مسترد ہو گئی تھی اور معمولی اکثریت نے سال میں دو بار وقت کی تبدیلی برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ تاہم تازہ علاقائی صورتحال کے بعد یہ بحث ایک بار پھر زور پکڑ سکتی ہے۔