اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)Simon Fraser University کے ایک محقق نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس خطے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ہوائی سفر کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
جامعہ کے تقابلی مسلم مطالعات مرکز سے وابستہ پارسا علی رضائی کا کہنا ہے کہ معاشی اثرات کا انحصار جنگ کی شدت اور دورانیے پر ہوگا، تاہم خلیج فارس عالمی توانائی کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ خطہ دنیا کی تیل اور قدرتی گیس کی ضروریات کا تقریباً تیس فیصد فراہم کرتا ہے، اس لیے توانائی کی منڈی پر اس کے اثرات نہایت اہم ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کے دباؤ کو بڑھاتا ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں پانچ سے دس امریکی ڈالر فی بیرل تک اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے خدشات سے منڈی میں بے چینی پھیلی رہی۔ علی رضائی نے خبردار کیا کہ اگر خلیج میں تیل صاف کرنے والے کارخانوں کو نشانہ بنایا گیا تو قیمتیں تین ہندسوں تک جا سکتی ہیں، جس کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی خطہ، خصوصاً دبئی، ہوائی سفر کے لیے ایک اہم ترسیلی مرکز ہے اور یورپ کو جیٹ ایندھن فراہم کرتا ہے۔ چونکہ کینیڈا کے شہری بڑی تعداد میں یورپ کا سفر کرتے ہیں اور یورپی فضائی کمپنیوں پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے اگر جیٹ ایندھن کی فراہمی متاثر ہوئی تو فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق نہ صرف مسافروں بلکہ سامان کی عالمی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر بڑے بحری اور فضائی راستے یا ایندھن کی فراہمی متاثر ہوئی تو عالمی رسد کا نظام، تجارتی زنجیریں اور قیمتوں کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ اس صورت میں اشیائے ضرورت اور صنعتی سامان دونوں مہنگے ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر علی رضائی کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں صارفین اور پیدا کنندگان کو زیادہ قیمتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے بقول ملک کو حالیہ برسوں میں نہ دیکھی جانے والی مہنگائی اور مالی دباؤ کی صورتحال کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔