امریکہ کے ایر ان کے دو ہزار اہداف پر حملے، 17 بحری جہاز تباہ کرنے کا دعوی

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے

جہاں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے وسیع پیمانے پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ایران میں تقریباً دو ہزار اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے سترہ بحری جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں اور خلیج عرب، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں ایرانی بحری موجودگی ختم کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ تیس گھنٹوں کے دوران ایران پر دو ہزار بم گرائے گئے جبکہ ایک اہم لیڈرشپ کمپلیکس پر ڈھائی سو بم برسائے گئے۔ اقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے تقریباً پوری ایرانی فضائی حدود پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایک سو ترپن ایرانی شہروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں شہری آبادی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں کسی بھی ملک کی شمولیت کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔ ایران کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ سعودی عرب میں امریکی سی آئی اے کے ایک اسٹیشن پر ڈرون حملہ کیا گیا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق اسے اب تک ایران کی جانب سے ایک ہزار سے زائد حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ادھر لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے اسرائیل کے شہر حیفہ میں واقع نیول بیس پر میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ حزب اللہ کے مطابق یہ کارروائی بیروت اور دیگر لبنانی شہروں پر اسرائیلی حملوں کا ردعمل ہے، تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ زیادہ تر میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے۔ اس دوران امریکا کے سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے عندیہ دیا ہے کہ امریکا ممکنہ طور پر اپنی زمینی فوج ایران بھیج سکتا ہے، جس سے خطے میں جنگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ری پبلکن سینیٹر لنزے گراہم نے بیان دیا ہے کہ اگر ایران میں حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر لا کر ابراہام معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ امریکا کو اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی اقدام کیا گیا تو وہ امریکا کے اپنے فیصلے کے تحت کیا گیا۔ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے والا تھا اور خدشہ تھا کہ ایران امریکی فوجیوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، اس لیے امریکا نے پیشگی اقدام کیا۔ دوسری جانب جرمن چانسلر نے بیان دیا ہے کہ انہیں یقین نہیں کہ فوجی حملے ایران میں اندرونی تبدیلی لا سکیں گے، تاہم وہ ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو ایران کے جوہری پروگرام کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔

مجموعی طور پر صورتحال نہایت سنگین ہو چکی ہے۔ ایران، اسرائیل، امریکا، لبنان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور یورپی ممالک اس بحران سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ خطے میں وسیع جنگ کے خطرات بڑھ رہے ہیں جبکہ عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی اور سفارتی حل کی اپیلیں بھی سامنے آ رہی ہیں، تاہم زمینی حقائق اس وقت شدید کشیدگی اور غیر یقینی کی عکاسی کر رہے ہیں۔

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں