اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں مایوس کن کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ ایک بار پھر بڑے فیصلوں کے دہانے پر کھڑی ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی ٹیم میں قیادت اور کوچنگ اسٹاف سمیت وسیع پیمانے پر تبدیلیوں پر غور جاری ہے، جبکہ کئی سینئر کھلاڑیوں کی جگہ بھی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔بھارت اور سری لنکا میں منعقدہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان سپر ایٹ مرحلے تک پہنچا، تاہم سیمی فائنل میں رسائی حاصل نہ کر سکا۔ بھارت اور انگلینڈ کے خلاف شکستوں نے ٹیم کی پوزیشن کمزور کر دی جبکہ سری لنکا کے خلاف بڑے مارجن سے کامیابی حاصل نہ کرنے کے باعث قومی ٹیم ایونٹ سے باہر ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق کپتان سلمان علی آغا اور ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی پوزیشن بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی اعلیٰ قیادت ٹیم کی حکمت عملی، دباؤ میں کارکردگی اور ڈریسنگ روم کے ماحول کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔میگا ایونٹ میں اجتماعی ناکامی کے بعد سینئر کھلاڑیوں کی کارکردگی بھی زیر بحث ہے۔ اطلاعات ہیں کہ بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی سمیت چند نمایاں ناموں پر بھی غور کیا جا رہا ہے اور بعض تجربہ کار کھلاڑیوں کو آرام دے کر نوجوان باصلاحیت پلیئرز کو موقع دینے کی تجویز زیر غور ہے۔
دوسری جانب سابق کپتان شاہد آفریدی نے نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے آل راؤنڈر شاداب خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ فارم کو دیکھتے ہوئے شاداب خان ٹیم میں جگہ کے بھی مستحق نہیں، کپتانی تو بہت دور کی بات ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ فخر زمان کو قیادت سونپی جا سکتی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق شاداب خان نے 6 میچز میں 118 رنز اسکور کیے اور 5 وکٹیں حاصل کیں، تاہم اہم مواقع پر وہ ٹیم کو کامیابی دلانے میں ناکام رہے۔ دوسری جانب اوپنر صاحبزادہ فرحان ورلڈ کپ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی رہے، جنہوں نے 6 اننگز میں 383 رنز بنا کر خود کو سب سے مستقل مزاج بیٹر ثابت کیا۔ذرائع کے مطابق بنگلہ دیش کے خلاف آئندہ سیریز کئی کھلاڑیوں کے کیریئر کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ سلیکشن کمیٹی کارکردگی کی بنیاد پر سخت فیصلے کرنے پر غور کر رہی ہے اور امکان ہے کہ قومی اسکواڈ میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔