تعلیمی جائیداد ٹیکس میں اضافے پر تنازع، البرٹا پریمیئر نے کیلگری کے میئر کی تنقید مسترد کر دی

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے کیلگری کے میئر جیرومی فارکس کی جانب سے تعلیمی جائیداد ٹیکس میں بڑے اضافے پر کی جانے والی تنقید کو مسترد کر دیا ہے۔ شہر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اضافے کا بوجھ کیلگری کے گھروں کے مالکان پر صوبے کے دیگر شہروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پڑے گا۔

میئر فارکس نے خبردار کیا ہے کہ اس تبدیلی کے نتیجے میں کیلگری کے اوسط گھر کے مالک کو سالانہ تقریباً 340 ڈالر اضافی ادا کرنا پڑیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کا یہ طریقہ کار اس نظام سے مشابہ ہے جس میں رقم ایک جگہ سے لے کر دوسری جگہ خرچ کی جاتی ہے، جبکہ شہر کو اس رقم کے بدلے مناسب فائدہ نہیں مل رہا۔

پریمیئر اسمتھ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی ٹیکس براہِ راست کیلگری کے طلبہ کی تعلیم پر خرچ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے جمعرات کے روز کوچرین میں تعلیم سے متعلق ایک اعلان کے دوران کہا کہ کیلگری کے ٹیکس دہندگان کی رقم کیلگری کے ہی طلبہ پر خرچ ہو رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ اس فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں، خاص طور پر وہ جو اساتذہ کی ہڑتال کے دوران آواز اٹھا رہے تھے، انہیں چاہیے کہ تعلیمی مسائل کے جلد حل کے لیے حکومت کی حمایت کریں۔ ان کے مطابق اگر اضافی فنڈنگ نہ دی جائے تو یہ طے کرنا پڑے گا کہ کون سے اسکولوں کے منصوبے یا تعلیمی معاونت کے پروگرام ختم کیے جائیں۔

پریمیئر کے مطابق اس سال صوبائی حکومت شہر کے گھروں کے مالکان سے تقریباً 967 ملین ڈالر وصول کر رہی ہے جبکہ شہر کے دو بڑے تعلیمی بورڈز کو مجموعی طور پر 2.24 ارب ڈالر کے عملی اخراجات فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ فرانسیسی زبان کے تعلیمی بورڈ کو بھی اضافی فنڈنگ دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعت کے رہنما نہید نینشی نے صوبائی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ سال کے آخر میں ٹیکس بل آنے سے پہلے اس معاملے کی ذمہ داری شہر پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ذاتی آمدنی یا کاروباری ٹیکس بڑھانے کے بجائے جائیداد مالکان اور کسانوں پر بوجھ ڈال رہی ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔

بدھ کے روز سٹی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں بھی اسی معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی۔ مجوزہ اضافے کے تحت سنگل فیملی گھروں پر سالانہ تقریباً 340 ڈالر، اپارٹمنٹ یونٹس پر تقریباً 129 ڈالر جبکہ کثیر رہائشی عمارتوں پر 1200 ڈالر سے زیادہ اضافی ٹیکس لگ سکتا ہے۔

میئر فارکس نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ شہریوں سے براہِ راست رائے لینے کے لیے عوامی ووٹنگ کرائی جائے تاکہ یہ طے ہو سکے کہ صوبے کی جانب سے جمع کیا جانے والا تعلیمی ٹیکس کیسے استعمال ہونا چاہیے۔

کچھ کونسل اراکین نے اس تجویز کی حمایت کی ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ صوبائی حکومت شہر میں 14 نئے اسکول بنانے کا منصوبہ بھی رکھتی ہے۔ اندازے کے مطابق اگر اس معاملے پر الگ عوامی ووٹنگ کرائی گئی تو اس پر شہر کو تقریباً 12 ملین ڈالر خرچ کرنا پڑ سکتے ہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں