اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے ایک اہم مؤقف اختیار کرتے ہوئے
اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے اس کی فضائی حدود، سمندر یا سرزمین استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ اس اعلان کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ریاض سے عرب میڈیا کے مطابق سعودی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع میں براہِ راست فریق نہیں بننا چاہتی اور اس کی پالیسی خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور استحکام برقرار رکھنے کی ہے۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ مملکت اپنی سرزمین کو کسی ایسے اقدام کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گی جس سے جنگ مزید پھیلنے کا خدشہ ہو۔
سعودی عرب کے اس فیصلے پر ایران نے مثبت ردعمل دیا ہے۔ سعودی عرب میں ایران کے سفیر علی رضا عنایتی نے سعودی حکومت کے اعلان کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران اس فیصلے پر سعودی عرب کا شکر گزار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف اس کی فضائی، بحری یا زمینی حدود استعمال نہیں ہوں گی، جو کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق حالیہ دنوں میں سعودی عرب نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی کی تھیں۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاض خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے حق میں ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے بھی حالیہ صورتحال پر اہم بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کشیدگی کے پس منظر میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا کردار نمایاں ہے۔ شہزادہ ترکی الفیصل کے مطابق نیتن یاہو نے امریکا کے متعدد دورے کیے اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ کی حمایت پر قائل کرنے کی کوشش کی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ دراصل نیتن یاہو کی جنگ ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ انہیں خطے میں بغیر کسی رکاوٹ کے کارروائیاں کرنے کی آزادی حاصل ہو۔ شہزادہ ترکی الفیصل نے اس صورتحال کو خطے کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب کا یہ مؤقف مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سفارتی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جہاں کئی ممالک خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ کے امکانات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بڑی علاقائی طاقتیں غیرجانبدار رہنے کی پالیسی پر قائم رہیں تو ممکن ہے کہ تنازع مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔