اوٹاوا اور البرٹا میں بڑے منصوبوں کی منظوری تیز کرنےکے حوالے سے معاہدہ

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کی وفاقی حکومت اور صوبہ البرٹا کے درمیان ایک مجوزہ معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت بڑے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے عمل کو زیادہ مؤثر اور تیز بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

جمعہ کو جاری مشترکہ اعلان میں دونوں حکومتوں نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت “ایک منصوبہ، ایک جائزہ” کا طریقہ کار اپنایا جائے گا تاکہ منصوبوں کے وسیع اثرات، بالخصوص ماحولیات سے متعلق معاملات، کا جائزہ زیادہ منظم انداز میں لیا جا سکے۔

معاہدے کے مسودے کے مطابق وہ منصوبے جو البرٹا کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، خاص طور پر غیر قابلِ تجدید قدرتی وسائل کے شعبے سے متعلق منصوبے، ان کی نگرانی اور منظوری بنیادی طور پر صوبائی ضابطہ جاتی نظام کے تحت ہوگی۔ تاہم ایسے منصوبے جن میں وفاقی زمین یا وفاقی اختیارات شامل ہوں گے، ان میں صوبائی اور وفاقی جائزہ عمل کو یکجا کر دیا جائے گا۔

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا اور البرٹا دونوں اس بات کے لیے پُرعزم ہیں کہ جائزے اور اجازت ناموں کے عمل کو زیادہ مؤثر بنایا جائے۔ اس سے بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لیے اعتماد بڑھے گا، معاشی استحکام کو تقویت ملے گی اور ساتھ ہی ماحول کے تحفظ اور مقامی باشندوں کے حقوق کا بھی خیال رکھا جائے گا۔

البرٹا کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ ایک اہم پیش رفت ہے اور اس کے ذریعے ایسے منصوبوں کے لیے وفاقی منظوری کی ضرورت کم ہو جائے گی جو مکمل طور پر صوبے کے اختیار میں آتے ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے البرٹا میں منصوبوں کی منظوری تیزی سے ہوگی اور تعمیراتی سرگرمیاں جلد شروع ہو سکیں گی۔

دوسری جانب کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا کہ یہ معاہدہ البرٹا اور وفاقی حکومت کے درمیان نئے تعاون کے اگلے مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے، جو گزشتہ سال توانائی کے شعبے سے متعلق ایک اہم معاہدے کے بعد سامنے آیا تھا۔ ان کے بقول دونوں حکومتیں مل کر بڑے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کر کے مضبوط، پائیدار اور زیادہ خودمختار معیشت قائم کرنا چاہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:البرٹا کے 16 ہزار ہیلتھ کیئر ورکرز نے نیا چار سالہ معاہدہ منظور کر لیا

واضح رہے کہ ماضی میں البرٹا اور وفاقی حکومت کے درمیان توانائی منصوبوں کے ضابطوں پر اختلافات رہے ہیں۔ صوبہ البرٹا نے وفاقی اثراتی جائزہ قانون کو عدالت میں چیلنج کیا تھا اور سنہ ۲۰۲۳ میں کینیڈا کی سپریم عدالت نے قرار دیا تھا کہ یہ قانون وفاقی اختیارات سے آگے بڑھ گیا تھا۔

بعد ازاں وفاقی حکومت نے اس قانون میں تبدیلیاں کیں، تاہم البرٹا نے سنہ ۲۰۲۴ میں دوبارہ قانونی چیلنج دائر کیا، جس کی سماعت گزشتہ ماہ کیلگری میں شروع ہو چکی ہے۔

نئے مجوزہ معاہدے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جاری قانونی تنازع کے باوجود اس میں شامل ہونا کسی بھی فریق کے قانونی مؤقف میں تبدیلی کا مطلب نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے کسی حکومت کے آئینی اختیارات متاثر ہوں گے۔

گزشتہ سال ڈینیئل اسمتھ اور مارک کارنی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت مقامی باشندوں کی مشترکہ ملکیت میں ایک ممکنہ تیل پائپ لائن منصوبے کی راہ بھی ہموار ہوئی تھی، جبکہ بعض ماحولیاتی پالیسیوں میں نرمی پر بھی بات ہوئی تھی۔

دونوں حکومتوں کو یکم اپریل تک صنعتی کاربن قیمت اور میتھین گیس کے اخراج سے متعلق پالیسیوں پر اتفاق کرنا ہے، جبکہ البرٹا نے یکم جولائی تک مجوزہ پائپ لائن منصوبے کی تفصیلات وفاقی دفتر میں جمع کرانے کی مہلت مقرر کی ہے۔

البرٹا حکومت کے مطابق میتھین کے اخراج اور صنعتی کاربن قیمت کے بارے میں مذاکرات جاری ہیں اور توقع ہے کہ دونوں فریق جلد ایسے معاہدے تک پہنچ جائیں گے جو صوبے میں تیل اور گیس کی پیداوار میں مزید اضافہ کرے گا۔دونوں حکومتوں نے کہا ہے کہ عوامی آراء حاصل کرنے کے بعد آنے والے ہفتوں میں اس معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں