اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) روس سے تیل کی خریداری کے لیے امریکا کی عارضی اجازت کے بعد بھارت کی
خارجہ اور معاشی خودمختاری کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت نے بھارت کی نام نہاد آزاد پالیسی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاستہائے متحدہ امریکا کے محکمہ خزانہ نے خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر بھارت کو تیس دن کے لیے روس سے تیل خریدنے کی عارضی اجازت دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد بھارت میں سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
بھارتی پارلیمان میں اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے اس معاملے پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا اب امریکا یہ طے کرے گا کہ بھارت کس ملک سے تیل خرید سکتا ہے اور کس سے نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہے تو یہ بھارت کی خودمختاری کے لیے انتہائی تشویشناک بات ہے۔
اسی معاملے پر کرناٹک سے کانگریسی رکن اسمبلی پریانک کھڑگے نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر پیغام دیتے ہوئے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خزانہ کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ بھارت کو روس سے تیل خریدنے کی اجازت دیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بھارتی حکومت ہر امریکی فیصلے کے سامنے کیوں جھک رہی ہے۔پریانک کھڑگے کا کہنا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک کی خارجہ پالیسی کو مذاق بنا دیا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو عالمی معاملات میں زیادہ جرات اور خودمختاری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت گزشتہ چند برسوں سے اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روس سے بڑی مقدار میں نسبتاً سستا تیل خرید رہا ہے، تاہم عالمی دباؤ اور پابندیوں کے باعث نئی دہلی کو اکثر اپنی توانائی پالیسی میں توازن قائم رکھنا پڑتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بنیادی معاشی فیصلے بھی امریکا کی منظوری سے مشروط ہو جائیں تو یہ صورتحال بھارت کی خارجہ پالیسی اور خودمختاری کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں بھارت کو اپنی توانائی پالیسی اور عالمی تعلقات کے حوالے سے نہایت محتاط حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔