اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران تل ابیب میں ہونے والے میزائل حملوں کے بعد تباہی کے مناظر سامنے آ رہے ہیں۔
ایک بھارتی صحافی نے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں شدید خوف و ہراس پھیل چکا ہے اور میزائل حملوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ زمین کے تقریباً سو میٹر نیچے موجود سرنگیں بھی لرز گئیں۔بھارتی صحافی کے مطابق تل ابیب کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کے بعد کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا جبکہ شہری بڑی تعداد میں محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے اسرائیلی دفاعی نظام اور ٹیکنالوجی کے بارے میں بہت سنا تھا، تاہم حالیہ حملوں میں یہ نظام کمزور دکھائی دیا۔
صحافی نے انکشاف کیا کہ اسرائیل میں حملوں کے بعد میڈیا پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ ان کے مطابق زخمیوں یا ہلاک ہونے والوں کی تصاویر بنانے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور نہ ہی صحافیوں کو اسپتالوں کے اندر جانے دیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کسی تباہ شدہ عمارت کی تصویر یا ویڈیو بنانے پر بھی پابندی عائد ہے اور سکیورٹی ادارے میڈیا کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی مواقع پر میزائل حملے سے پہلے شہریوں کو خطرے کا پیغام بھی نہیں ملتا اور اچانک حملہ ہو جاتا ہے۔
بھارتی صحافی کے مطابق اسرائیلی دفاعی نظام کے بارے میں دنیا بھر میں جو دعوے کیے جاتے ہیں، حالیہ حملوں کے دوران وہ حقیقت سے مختلف محسوس ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود ایسے حالات دیکھے جہاں میزائل حملے اچانک ہوئے اور شہریوں کو سنبھلنے کا زیادہ وقت نہیں ملا۔یاد رہے کہ مذکورہ بھارتی صحافی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل کی کوریج کے لیے وہاں موجود تھے، تاہم اسی دوران شہر میں میزائل حملوں کے باعث صورتحال کشیدہ ہو گئی اور سکیورٹی سخت کر دی گئی۔
9