اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا کے عوام کو اگر مشرقِ وسطیٰ میں تنازع طویل عرصے تک جاری رہا تو پیٹرول کی قیمتوں میں فوری کمی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ صوبے کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں فی لیٹر ایندھن پر عائد 13 سینٹ ٹیکس معطل نہیں کیا جائے گا۔
جمعہ کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 90 امریکی ڈالر فی بیرل سے زیادہ پر بند ہوئی۔ اس کے باوجود وزیرِاعلیٰ نے اپنے ہفتہ وار ریڈیو پروگرام میں کہا کہ ٹیکس میں تبدیلی کا فیصلہ تین ماہ کی اوسط قیمتوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، اس لیے فی الحال کسی ردوبدل کا امکان نہیں۔
ان کے مطابق اس وقت پہلا سہ ماہی جائزہ اختتام کے قریب ہے اور تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ بہت دیر سے ہوا ہے، اس لیے یکم اپریل سے ٹیکس میں کمی کے لیے یہ اضافہ قابلِ غور نہیں بن سکے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر آئندہ مہینوں میں تیل کی قیمتیں اسی سطح پر برقرار رہیں تو حکومت ممکنہ طور پر اس معاملے کا دوبارہ جائزہ لے سکتی ہے۔
اپنے پروگرام کے دوران وزیرِاعلیٰ نے کیلگری کے میئر جیرومی فرکاس کی اس تنقید کا بھی جواب دیا جس میں انہوں نے صوبائی بجٹ میں تعلیمی جائیداد ٹیکس میں اضافے کو دوسرے شہروں کو سبسڈی دینے کے مترادف قرار دیا تھا۔
صوبائی حکومت کے دو ہزار چھبیس کے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لیے اخراجات بڑھا کر دس اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کر دیے گئے ہیں، جس کے لیے تعلیمی جائیداد ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں کیلگری کے گھروں کے مالکان کے ٹیکس بل میں اوسطاً اکیس فیصد یا تقریباً تین سو چالیس ڈالر اضافہ ہوگا، جبکہ ایڈمنٹن میں اوسط اضافہ ایک سو چون ڈالر یعنی تقریباً تیرہ فیصد بتایا جا رہا ہے۔
ڈینیئل اسمتھ نے واضح کیا کہ یہ رقم کسی اور شہر کو منتقل نہیں کی جاتی بلکہ جس علاقے سے وصول ہوتی ہے وہیں کے تعلیمی نظام پر خرچ ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو معلوم ہے کہ ٹیکس بل کا ایک حصہ بلدیاتی خدمات کے لیے ہوتا ہے، جیسے سڑکوں کی مرمت، گڑھوں کی بھرائی اور برف ہٹانے کے انتظامات۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس کا ایک حصہ اسکولوں کی تعمیر، اساتذہ کی بھرتی اور طلبہ کے بڑھتے ہوئے مسائل سے نمٹنے کے لیے معاون عملہ فراہم کرنے پر خرچ کیا جاتا ہے۔ وزیرِاعلیٰ کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں صوبے کی آبادی میں ہونے والے اضافے کا تقریباً چالیس فیصد حصہ صرف کیلگری میں ہوا ہے، جس کے باعث وہاں تعلیمی سہولیات کی ضرورت بھی تیزی سے بڑھی ہے۔