اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر تیزی سے بڑھ گئی ہیں .
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور توانائی کی ترسیل کے خدشات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید متاثر کیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امریکا کی جانب سے اہم بحری راستےکو مکمل طور پر محفوظ اور فعال رکھنے میں مشکلات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاروں نے ممکنہ قلت کے خدشے کے پیش نظر تیل کی خریداری بڑھا دی ہے جس کے باعث قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اعداد و شمار کے مطابق عالمی معیار کے تیل Brent Crude کی قیمت میں تقریباً 23 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس کی قیمت بڑھ کر 114.36 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل West Texas Intermediate WTI کی قیمت میں بھی 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور یہ بڑھ کر 115.11 ڈالر فی بیرل ہو گیا ہے۔توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ دنیا کے تیل کی ترسیل کا ایک انتہائی اہم مرکز ہے اور اگر خطے میں جنگ یا کشیدگی مزید طول پکڑتی ہے تو عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی اور خطے میں جنگ طویل ہو گئی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اس تیزی کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ سکتے ہیں۔ اس اضافے کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا خدشہ ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ اور توانائی کے بحران جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں، خصوصاً ترقی پذیر ممالک اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔