اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کے سنگین اثرات سامنے آ رہے ہیں۔
تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے سے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے نتیجے میں اسرائیل میں کم از کم تیرہ افراد ہلاک جبکہ ایک ہزار نو سو انتیس زخمی ہو چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال اب بھی کشیدہ ہے اور شہریوں کو مسلسل حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے۔
اسرائیلی وزارتِ صحت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق حالیہ حملوں کے باعث مختلف شہروں میں بڑی تعداد میں شہری متاثر ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق صرف گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک سو ستاون افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔وزارتِ صحت کے مطابق اس وقت ایک سو بارہ زخمی افراد بدستور ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے نو افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جبکہ متعدد افراد کو درمیانی نوعیت کے زخم آئے ہیں۔ ڈاکٹروں کی ٹیمیں مسلسل مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال میں مصروف ہیں۔
شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے الزامات
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں میں زیادہ تر میزائل اور ڈرون شہری علاقوں کے قریب گرے جس کے باعث عام شہریوں کو نقصان پہنچا۔ کئی رہائشی عمارتوں کو بھی جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔حکام کے مطابق دارالحکومت تل ابیب اور دیگر بڑے شہروں میں فضائی حملوں کے سائرن کئی مرتبہ بجائے گئے جس کے بعد شہریوں کو فوری طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ ان حالات کے باعث شہری زندگی شدید متاثر ہوئی اور کئی علاقوں میں معمولاتِ زندگی عارضی طور پر معطل ہو گئے۔
اسرائیلی وزارتِ صحت نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ وہ حملوں کے دوران احتیاط سے پناہ گاہوں کی طرف جائیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض افراد سائرن سن کر جلدی میں پناہ گاہوں کی جانب دوڑتے ہوئے زخمی بھی ہوئے ہیں۔طبی حکام کے مطابق متعدد زخمیوں کو ایسے حادثات کے باعث ہسپتال لایا گیا جن میں لوگ سیڑھیوں سے گر گئے یا رش کے باعث ایک دوسرے سے ٹکرا گئے۔ وزارتِ صحت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ہنگامی حالات میں بھی پرسکون رہیں اور مقررہ حفاظتی طریقہ کار پر عمل کریں۔
ایرانی حملوں کے بعد اسرائیل کے کئی بڑے ہسپتالوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق اضافی طبی عملہ طلب کر لیا گیا ہے جبکہ ایمرجنسی وارڈز کو مکمل طور پر فعال رکھا گیا ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں زیادہ تر افراد کو شیل کے ٹکڑوں، عمارتوں کے ملبے یا دھماکوں کے دباؤ کے باعث چوٹیں آئی ہیں۔ بعض افراد کو شدید صدمے اور ذہنی دباؤ کے باعث بھی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں نفسیاتی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں، اس لیے متاثرہ افراد کو ذہنی معاونت فراہم کرنے کے لیے خصوصی ٹیمیں بھی تعینات کی گئی ہیں۔
شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات
حکام نے عوام کو ہدایت دی ہے کہ جیسے ہی فضائی حملے کا سائرن بجے وہ فوری طور پر قریبی پناہ گاہ میں چلے جائیں۔ حکومت نے شہریوں سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ہنگامی کٹس تیار رکھیں جن میں پانی، ابتدائی طبی سامان اور ضروری دستاویزات شامل ہوں۔ متعلقہ اداروں نے یہ بھی کہا ہے کہ شہری غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور سرکاری ہدایات پر مکمل عمل کریں۔ تعلیمی اداروں اور کئی عوامی مقامات پر بھی حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کے باعث خطے میں بڑے پیمانے پر تصادم کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم نہ ہوئی تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ خاص طور پر توانائی کی منڈیوں اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
متعدد عالمی رہنماؤں اور بین الاقوامی تنظیموں نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی برادری نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو اس کے نتیجے میں انسانی بحران پیدا ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے، کیونکہ شہری علاقوں پر حملوں سے عام آبادی سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔
حالیہ حملوں کے باعث کئی خاندان شدید صدمے سے دوچار ہیں۔ ہلاک ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سوگ میں مبتلا ہیں جبکہ زخمی افراد کے لواحقین ہسپتالوں میں اپنے پیاروں کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔ امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ کئی مقامات پر رضاکار زخمیوں کی مدد اور متاثرہ خاندانوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
سلامتی کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے اور کسی بھی غلط اندازے یا اشتعال انگیز کارروائی سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف فوجی بلکہ سیاسی اور معاشی سطح پر بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس لیے عالمی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
مستقبل کے خدشات
اگرچہ فی الحال دونوں جانب سے بیانات اور فوجی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دن صورتحال کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو مزید حملوں اور جانی نقصان کا خدشہ بھی موجود ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دفاعی نظام کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کا بروقت جواب دیا جا سکے۔