اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) گوگل کی ذیلی کمپنی الفابیٹ کے سربراہ سندر پچائی کی آمدنی میں آئندہ چند برسوں کے دوران نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
کمپنی کی جانب سے امریکی حکام کے پاس جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق اگلے تین برسوں میں انہیں اربوں روپے کے برابر معاوضہ دیا جائے گا۔امریکی مالیاتی نگرانی کے ادارے میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق آئندہ تین برسوں میں سندر پچائی کو تقریباً 69 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ادا کیے جائیں گے، جو پاکستانی کرنسی میں ایک کھرب 92 ارب روپے سے زیادہ بنتے ہیں۔اس معاوضے کا بڑا حصہ کمپنی کی کارکردگی سے مشروط ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس رقم کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آئندہ تین برسوں میں الفابیٹ کے نئے منصوبے کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں۔
سندر پچائی کے معاوضے کا ڈھانچہ 2022 کے پیکج سے ملتا جلتا ہے، تاہم اس بار اس میں کچھ نئی مراعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ان کی آمدنی کا بڑا حصہ الفابیٹ کی خودکار گاڑیوں پر کام کرنے والی ذیلی کمپنی وے مو کی کارکردگی سے جڑا ہوا ہے۔ اگر آئندہ تین برسوں کے دوران اس کمپنی کی مالیت میں اضافہ ہوتا ہے تو سندر پچائی کو حصص کی صورت میں 26 کروڑ ڈالر مل سکتے ہیں۔
اسی طرح ڈرون کے ذریعے سامان پہنچانے والی کمپنی وِنگ کی اچھی کارکردگی پر انہیں 9 کروڑ ڈالر دیے جائیں گے۔کمپنی کی مجموعی کارکردگی سے ہٹ کر الفابیٹ کی جانب سے 25 کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت کے حصص بھی فراہم کیے جائیں گے، جبکہ مزید 8 کروڑ 40 لاکھ ڈالر اس صورت میں دیے جائیں گے اگر سندر پچائی اگلے تین برس تک کمپنی کے ساتھ کام جاری رکھتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنے بڑے معاوضے کے باوجود ان کی بنیادی سالانہ تنخواہ صرف 20 لاکھ ڈالر ہے، جو سنہ 2020 سے تبدیل نہیں ہوئی۔واضح رہے کہ سندر پچائی نے 2004 میں گوگل میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ ابتدا میں وہ مصنوعات کے انتظام کے شعبے میں نائب صدر کے طور پر کام کرتے رہے اور بعد ازاں گوگل کے براؤزر اور آپریٹنگ نظام کی ٹیم کی قیادت بھی کی۔سنہ 2015 میں انہیں گوگل کا سربراہ بنایا گیا جبکہ 2019 میں وہ الفابیٹ کے بھی سربراہ بن گئے۔