اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے ایک بڑے شہر میں تعینات پولیس اہلکار پر جنسی حملوں اور دیگر سنگین جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق خصوصی تفتیشی شعبے کی تحقیقات کے بعد ایک انتالیس سالہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جس کے خلاف کئی فوجداری مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ اس معاملے کے سامنے آنے کے بعد عوامی سطح پر بھی خاصی توجہ پیدا ہوئی ہے۔
تفتیش کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ ملزم پر تین مرتبہ جنسی حملے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس پر تین مرتبہ جسمانی حملہ کرنے اور چار مرتبہ املاک کو نقصان پہنچانے یا شرارت کرنے جیسے الزامات بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے جن کی بنیاد پر یہ مقدمات قائم کیے گئے۔
پولیس کے متعلقہ محکمے نے تصدیق کی ہے کہ گرفتار شخص پولیس فورس میں سپاہی کے عہدے پر خدمات انجام دے رہا تھا۔ واقعہ سامنے آنے کے بعد محکمۂ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے اس کی ذمہ داریوں سے معطل کر دیا ہے۔ موجودہ قوانین کے مطابق معطلی کے دوران اسے تنخواہ ملتی رہے گی جب تک کہ مقدمے کا فیصلہ نہ ہو جائے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے اور ادارے کے قواعد کے مطابق اٹھایا گیا ہے تاکہ مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم کسی سرکاری ذمہ داری کو انجام نہ دے سکے۔ اس طرح کے معاملات میں پولیس عام طور پر شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی تفتیشی ٹیمیں مقرر کرتی ہے۔
تفتیشی ادارے کے مطابق چونکہ یہ معاملہ اب عدالت میں زیر سماعت ہے، اس لیے فی الحال اس سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی جا رہیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے تک اس مقدمے کے بارے میں محدود معلومات ہی فراہم کی جائیں گی۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر عدالت میں یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ملزم کو سخت قانونی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم قانون کے مطابق جب تک عدالت کسی شخص کو مجرم قرار نہ دے دے، اس وقت تک اسے بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسی لیے اس مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالت کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔